سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 252
سيرة النبي علي 252 جلد 1 وجه دریافت کرے کہ کیوں ہم آپ کو ایک خاص گروہ میں شامل کرتے ہیں اور دوسرے سے نکالتے ہیں۔اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کا بھی جواب دیں کیونکہ اس سوال کا جواب دیئے بغیر آنحضرت ﷺ کی سیرت کا ایک پہلو نامکمل رہ جاتا ہے اور آپ جیسے مکمل انسان کی زندگی کا کوئی پہلو نہیں جو نامکمل ہو۔پس اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گواہی پیش کرتے ہیں جو آپ کی ازواج مطہرات سے تھیں اور آپ کے اخلاق کی كَمَا حَقُهُ واقف تھیں۔صحیح بخاری میں آپ سے روایت ہے کہ مَا خُيّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرُمَةُ اللهِ فَيَنْتَقِمَ لِلهِ بِهَا 7 و یعنی آنحضرت ﷺ کو جب کبھی دو باتوں میں اختیار دیا جاتا تھا تو آپ دونوں میں سے آسان کو اختیار کر لیتے تھے جب تک کہ گناہ نہ ہو۔اور جب کوئی گناہ کا کام ہوتا تو آپ اُس سے سب لوگوں سے زیادہ دور بھا گئے۔اور آپ کبھی اپنے نفس کے لیے انتقام نہ لیتے تھے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمتوں میں سے کسی کی بے حرمتی کی جاتی تھی تو آپ خدا کے لیے اس بے حرمتی کا بدلہ لیتے تھے۔اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جب آنحضرت عیﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو کاموں کا اختیار دیا جاتا کہ آپ جو چاہیں کریں تو آپ ان دونوں میں سے آسان کو اختیار کرتے ( کیونکہ بندہ کا یہی حق ہے کہ اپنے آپ کو ہمیشہ زائد بوجھوں سے بچائے تا ایسا نہ ہو کہ اپنے آپ کو کسی مصیبت میں گرفتار کر دے) لیکن اگر کبھی آپ دیکھتے کہ ایک آسان بات کو اختیار کر کے کسی وجہ سے کسی گناہ کا قرب ہو جائے گا تو پھر آپ کبھی اُس آسان کو اختیار نہ کرتے بلکہ مشکل سے مشکل امر کو اختیار کر لیتے مگر اس آسان کے قریب نہ جاتے (اور یہی اللہ تعالیٰ کے پیاروں کا کام ہے کہ وہ گناہ