سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 251
سيرة النبي علي 251 جلد 1 اب ایک سوال اور باقی رہ جاتا ہے۔اور وہ یہ کہ بعض لوگ پیدائشی ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو غصہ آتا ہی نہیں بلکہ جو معاملہ بھی ان سے کیا جائے وہ متحمل ہی تحمل کرتے ہیں اور غضب کا اظہار کبھی نہیں کرتے۔اور اس کی یہ وجہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے جوش کو دبا لیتے ہیں یا تحمل سے کام لیتے ہیں بلکہ در حقیقت ان کے دل میں جوش پیدا ہی نہیں ہوتا اور انہیں کسی بات کی حقیقت کے سمجھنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔اور یہ لوگ ہر گز کسی تعریف کے مستحق نہیں ہوتے کیونکہ ان کا تحمل صرف ظاہری ہے اس میں حقیقت کچھ نہیں۔ایک شکل ہے جس کی اصلیت کوئی نہیں۔ایک جسم ہے جس میں روح کوئی نہیں۔ایک قشر ہے جس میں مغز کوئی نہیں۔اور ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی ٹینڈے شخص کو کوئی دوسرا شخص مارے اور چونکہ اس کے ہاتھ نہیں ہیں وہ مارکھا کر صبر کر چھوڑے۔اور جس طرح یہ ٹنڈا قطعاً اس تعریف کا مستحق نہیں ہے کہ اُسے تو زید یا بکر نے مارا مگر اس نے آگے سے ایک طمانچہ بھی نہ لگایا کیونکہ اس میں طمانچہ لگانے کی طاقت ہی نہ تھی کیونکہ اس کے ہاتھ نہ تھے اس لیے مجبور تھا کہ مارکھا تا اور اپنی حالت پر افسوس کرتا۔اسی طرح وہ شخص بھی ہر گز کسی تعریف کا مستحق نہیں جس کے دل میں جوش اور حس ہی نہیں اور وہ بری بھلی بات میں تمیز ہی نہیں کرسکتا۔کیونکہ اس کا تحمل خوبی نہیں بلکہ اس کا باعث فقدانِ شعور ہے۔پس ایک معترض کا حق ہے کہ وہ یہ سوال کرے کہ کیوں آنحضرت عمے کو بھی ایسا ہی نہ خیال کر لیا جائے۔خصوصاً جبکہ اس قدر طاقت اور قدرت اور ایسے ایسے جوش دلانے والے مواقع پیدا ہو جانے کے باوجود آپ اس طرح ہنس کر بات ٹال دیتے تھے اور کیوں نہ خیال کر لیا جائے کہ آپ بھی پیدا کشا ایسے ہی نرم مزاج پیدا ہوئے تھے اور فطرتا آپ مجبور تھے کہ ایسے ایذا د ہندوں کے اعمال پر ہنس کر ہی خاموش ہو رہتے کیونکہ آپ کے اندر انتقام کا مادہ اور بُری اور بھلی بات میں تمیز کی صفت موجود ہی نہ تھی (نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِکَ)۔یہ سوال بالکل درست اور بجا ہے اور ایک محقق کا حق ہے کہ وہ ہم سے اس کی