سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 250
سيرة النبي علي 250 جلد 1 کہ اس کے بعد کوئی ترقی نہیں۔ممکن ہے کہ کوئی صاحب کہیں کہ آپ بادشاہوں اور حاکموں کی کیوں شرط لگاتے ہیں اور اس مقابلہ کے میدان کو اور بھی کیوں وسیع نہیں کر دیتے کہ دنیا کے گل افراد کے متحمل کو سامنے رکھ کر مقابلہ کر لیا جائے کہ آیا کوئی انسان اس صفت میں آپ کی برابری کر سکتا ہے یا نہیں ؟ مگر میں کہتا ہوں کہ تحمل اسی انسان کا قابلِ قدر ہے جسے طاقت اور قدرت ہو۔جو شخص خود دوسروں کا محتاج ہو، دوسروں سے خائف ہو، اپنے دشمنوں کے خوف سے چھپتا پھرتا ہو، اُسے دنیا میں سر چھپانے کی جگہ نہ ملتی ہو اُس کا محتمل بھی کوئی تحمل ہے !! اس کی زبان تو اس پر ظلم کرنے والوں نے بند کر دی ہے اور اس میں یہ طاقت ہی نہیں کہ ان کے حملوں کا جواب دے سکے۔پس جو حاکم نہیں یا بادشاہ نہیں یا دنیاوی لحاظ سے کوئی خاص عزت نہیں رکھتا اس کا تحمل کوئی تحمل نہیں بلکہ بہت دفعہ ایک مغلوب الغضب انسان بھی اپنے ایذا دہندوں کے خوف سے اپنے غضب کو دبا لیتا ہے اور گو دل ہی دل میں جلتا اور کڑھتا ہے اور جی ہی جی میں گالیاں دیتا اور کوستا ہے لیکن اظہارِ غضب کی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ جانتا ہے کہ اس کا نتیجہ میرے حق میں اور بھی مضر ہوگا۔پس آنحضرت ﷺ کے مقابلہ میں اس شخص کے تحمل کی مثال پیش کی جاسکتی ہے جو آپ ہی کی طرح با اختیار اور طاقت رکھتا ہو اور پھر آپ ہی کی طرح تحمل دکھانے والا ہو۔ورنہ مثل مشہور ہے کہ زبر دست مارے اور رونے نہ دے ایسا زبردست جو کسی زبر دست کے پنجہ ستم میں گرفتار ہو اس نے قابل عتاب گفتگو سن کر یا بُرا سلوک دیکھ کر اظہار ناراضگی کرنا ہی کیا ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ یہ طریق تو انصاف پر مبنی تھا اور عقلاً ، اخلاقاً ہمارا حق تھا کہ ہم مذکورہ بالا شرط سے مشروط مقابلہ کا مطالبہ کریں۔لیکن اگر کوئی شخص دنیا کے تمام انسانوں میں بھی آپ جیسے باکمال انسان کو پیش کر سکے تو ہم اس کے معاملہ پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔بشرطیکہ بے حیائی کا نام تحمل نہ رکھ لیا جاوے۔