سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 249

سيرة النبي علي 249 جلد 1 اسے بھی ضرور کچھ دے دو۔گویا مسکرا کر اسے بتاتے ہیں کہ میں تمہارے جیسے نادانوں کو جو آداب رسول سے ناواقف ہیں بجائے ڈانٹنے کے قابلِ رحم خیال کرتا ہوں اور بجائے ناراضگی کے تمہاری حالت پر مسکراتا ہوں کہ تم میرے تحمل سے ہی فائدہ اٹھاؤ۔کہنے کو سب لوگ محمل والے بن جاتے ہیں لیکن عمل ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے انسان کی حقیقت کھلتی ہے اور اس کے دعاوی کے صدق اور کذب کا حال معلوم ہوتا ہے۔دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں جو عدل و انصاف کے لحاظ سے خاص شہرت رکھتے ہیں، جو تحمل مزاج مشہور ہیں اور جن کے تحمل اور بردباری کے افسانوں سے تاریخوں کے صفحے کے صفحے بھرے ہوئے ہیں۔ان میں سے ایسے بھی ہیں جو مذہبی عزت کے لحاظ سے بھی اپنے زمانہ کے لوگوں میں ممتاز تھے اور جو بعد میں بھی اپنے ہم مذہبوں کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیئے گئے ہیں۔ایسے بادشاہ بھی گزرے ہیں جو بادشاہت کے علاوہ مذاہب کے بانی اور پیشوا بھی ہوئے ہیں اور خاص سلسلوں کے جاری کرنے والے ہیں جن کے مرنے کے ساتھ ان کی بادشاہت کا تو خاتمہ ہو گیا لیکن ان کی روحانی بادشاہت مدت ہائے دراز تک قائم رہی بلکہ اب تک بھی مختلف حکومتوں کے ماتحت رہنے والے لوگ در حقیقت اپنے دل اور اپنی روح کے لحاظ سے انہی کے ماتحت ہیں جو نیکی اور تقویٰ میں بے نظیر خیال کیے جاتے ہیں جو اخلاق میں آنے والی نسلوں کے لیے ایک نمونہ خیال کیے جاتے ہیں۔مگر کوئی ہے جو تمام دنیا کی تاریخوں کی ورق گردانی کرنے کے بعد تمام اقوام کے بادشا ہوں اور پیشواؤں کے حالات کی چھان بین کرنے کے بعد ان اخلاق کا انسان دکھا سکے اور اس تحمل کی نظیر کسی اور انسان میں بتا سکے جو آنحضرت ﷺ نے دکھایا۔میں یہ نہیں صلى الله کہتا کہ آنحضرت معے کے سوا کوئی شخص تحمل کی صفت سے متصف ہوا ہی نہیں لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ اس درجہ تک تحمل کا اظہار کرنے والا جس درجہ تک آپ نے ظاہر فرمایا کوئی انسان نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہو گا کیونکہ آپ کمال کی اُس سرحد تک پہنچ گئے ہیں