سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 248
سيرة النبي علي 248 جلد 1 ساتھ آپ کی گردن پر خراش ہو گئی۔اس کے بعد اس نے کہا کہ آپ کے پاس جو مال ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی دلوائیں۔پس آپ نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا کہ اسے کچھ دے دو۔اس مثال سے آپ کا متحمل پہلی مثال سے بھی زیادہ ظاہر ہوتا ہے۔پہلی مثال سے تو یہ ظاہر ہوتا تھا کہ آپ کے پاس کچھ تھا نہیں اور کچھ سائل آپ سے بار بارانعام طلب کرتے تھے اور جبکہ آپ انکار فرما رہے تھے کہ میرے پاس کچھ نہیں اور وہ لینے مُصر تھے۔ان لوگوں کا آپ پر زور کرنا سمجھ میں آ سکتا ہے اور خیال ہوسکتا ہے کہ چونکہ وہ لوگ سخت محتاج تھے اور ان کی حالت زار تھی اور ناامیدی میں انسان کے حواس ٹھکانے نہیں رہتے اس لیے ان کی زیادتی پر آپ جیسے رحیم انسان کا تحمل کرنا کچھ تعجبات سے نہ تھا۔لیکن دوسرا واقعہ اس واقعہ سے بہت زیادہ آپ کے تحمل پر روشنی ڈالتا ہے کیونکہ اس شخص نے بغیر سوال کے آپ پر حملہ کر دیا اور اس حملہ کی کوئی وجہ نہ تھی۔نہ اس نے سوال کیا تھا نہ آپ نے انکار فرمایا تھا نہ اسے کوئی ناامیدی پیش آئی تھی۔مال سامنے موجود تھا آپ دینے کو تیار تھے پھر بلا وجہ اس طرح گستاخی سے پیش آنا ایک نہایت ہی ناشائستہ حرکت تھی اور اس کے سوال پر اسے ڈانٹنا چاہیے تھا۔اور پھر اس نے جو طریق اختیار کیا تھا وہ صرف گستاخانہ ہی نہ تھا کہ یہ خیال کر لیا جاتا کہ چلو اس سے کوئی حقیقی نقصان تو ہوا نہیں جاہل آدمی ہے اور جنگلی ہے اور آداب رسول سے ناواقف ہے اسے معاف ہی کر دینا بہتر ہو گا۔بلکہ وہ ایذا رسانی کا طریق تھا اور اس کی اس حرکت سے آنحضرت ﷺ کو سخت تکلیف بھی پہنچی اور گردن مبارک پر خراش بھی ہوگئی۔بلکہ اس حدیث کو حمام نے اس طرح روایت کیا ہے کہ چادر پھٹ گئی اور اس کا حاشیہ چڑہ کو پھاڑتا ہوا گوشت تک گھس گیا۔پس وہ شخص اس بات کا پورے طور پر مستحق تھا کہ اسے آپ سختی سے علیحدہ کر دیتے۔لیکن باوجود ان تمام باتوں کے آپ اس سے یہ سلوک فرماتے ہیں کہ اس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ