سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 232
سيرة النبي علي 232 جلد 1 خوف وخطر کے بھی ایک سوئے ہوئے آدمی کو جگا دیا جائے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور کسی خطر ناک آواز یا نظارہ کو اگر ایک سویا ہوا انسان سن کریا دیکھ کر اٹھے تو اس کے حواس قائم رہنے نہایت مشکل ہوتے ہیں۔پس اگر جاگتے ہوئے کوئی دشمن حملہ کرتا تو وہ واقعہ ایسا صاف اور روشن نہ ہوتا جیسا کہ یہ ہے۔کیونکہ اس سے ایک طرف تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو کسی خطرہ کا گمان تک بھی نہ تھا جب اس شخص نے آپ پر حملہ کیا اور آپ کسی ایسے فعل سے انتہائی درجہ کی لاعلمی میں تھے اور دوسری طرف دشمن کو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ہر قسم کی تیاری اور ہوشیاری کا موقع حاصل تھا۔علاوہ ازیں ایک آدمی جب بیٹھا یا کھڑا ہو تو وہ حملہ آور کا مقابلہ نہایت آسانی سے کر سکتا ہے اور کم سے کم اسے اپنی جگہ بدلنے میں آسانی ہوتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کے حملہ کو اگر طاقت اور قوت سے میں نہیں روک سکتا تو کم سے کم چستی اور چالاکی سے اس کے حملہ کو ضرور بچا سکتا ہوں اور اس کی ضرب سے ایک طرف ہو کر اپنی جان بچانے کا موقع حاصل ہو سکتا ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت لیٹے ہوئے تھے اور پھر سوئے ہوئے جاگے تھے جس کی وجہ سے کوئی ظاہری تد بیر دشمن کے حملہ کو روکنے کی نہ تھی اور پھر آپ غیر علاقہ میں تھے اور دشمن اپنی جگہ پر تھا جہاں اپنی حفاظت کا اسے ہر طرح یقین تھا مگر باوجود ان حالات کے آپ نے ایک ذرہ بھر بھی تو گھبراہٹ ظاہر نہیں کی۔اس اعرابی کا یہ کہنا بھی کہ اب تجھے کون بچا سکتا ہے صاف ظاہر کرتا ہے کہ اسے بھی کامل یقین تھا کہ اب کوئی دنیاوی سامان ان کے بچاؤ کا نہیں مگر اسے کیا معلوم تھا کہ جس شخص پر میں حملہ کرنا چاہتا ہوں وہ معمولی انسانوں میں سے نہیں بلکہ ان میں سے ہے جو خالقِ ارض و سماء کے دربار کے مقرب اور اس کے ظانِ عافیت کے نیچے آئے ہوئے ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جس آرام اور اطمینانِ قلب کے ساتھ