سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 231
سيرة النبي علي 231 جلد 1 صلى الله کے ساتھ نجد کی طرف جنگ کیلئے گئے۔جب رسول اللہ کے سفر سے لوٹے تو آپ بھی حضور کے ساتھ لوٹے۔راستہ میں لشکر ایک ایسی وادی میں جو کانٹے دار درختوں سے پر تھی دو پہر کے وقت گزرا۔پس رسول اللہ ﷺ وہاں اتر پڑے اور آپ کے ساتھی ادھر اُدھر درختوں میں پھیل گئے اور درختوں کے سائے میں آرام کرنے لگے آنحضرت یہ بھی ایک کیکر کے درخت کے نیچے ٹھہر گئے اور اپنی تلوار اُس درخت سے ٹانگ دی۔جابر فرماتے ہیں کہ ہم تھوڑی دیر سو گئے پھر اچانک آنحضرت علی کی آواز آئی کہ آپ ہمیں بلاتے ہیں پس ہم آپ کے پاس آئے اور کیا دیکھتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک اعرابی بیٹھا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص نے میری تلوارمیان سے پھینچی اور میں سو رہا تھا پس میں جاگ پڑا اور اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی پس اس نے مجھے کہا کہ مجھ سے تجھے کون بچائے گا؟ میں نے اسے جواب دیا کہ اللہ بچائے گا۔پس دیکھو یہ سامنے بیٹھا ہے۔پھر جابر فر ماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہ دی۔دوسری جگہوں سے اس واقعہ میں اس قدر اور زیادتی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کا نام سن کر اس شخص پر اس قدر ہیبت طاری ہوئی کہ اُس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھالی اور اس سے فرمایا کہ اب تجھے میرے ہاتھ سے کون بچائے گا ؟ تو اس نے جواب دیا کہ کوئی نہیں۔پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا اور صحابہ کو بلا کر دکھایا 91۔اس حدیث سے کیسے واضح طور سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حواس پر ایسا قابو تھا کہ نہایت خطرناک اوقات میں بھی آپ نہ گھبراتے تھے۔کہنے کو تو شاید یہ ایک چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے کہ اس اعرابی نے آپ سے پوچھا کہ اب آپ کو کون بچائے گا ؟ اور آپ نے فرمایا کہ اللہ۔لیکن عمل میں یہ بات مشکل ترین امور میں سے ہے۔اول تو سویا ہوا انسان پہلے ہی بہت سی غفلتوں کے نیچے ہوتا ہے اور بغیر کسی