سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 233
سيرة النبي علي 233 جلد 1 جواب دیا ہے کہ مجھے اللہ بچائے گا وہ روز روشن کی طرح اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ آپ کے دل میں غیر اللہ کا خوف ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں آتا تھا اور آپ کا دل ایسا مضبوط اور قوی تھا کہ خطرناک سے خطرناک اوقات میں بھی اس میں گھبراہٹ کا وجود نہ پایا جاتا تھا اور اپنے حواس پر آپ کو اس قدر قدرت تھی کہ اور تو اور خود دشمن بھی جو آپ کے قتل کے ارادہ سے آیا تھا بدحواس ہو گیا اور اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گر گئی کیونکہ اس نے دیکھ لیا کہ میں ایک ایسی طاقت کا مقابلہ کر رہا ہوں جسے نقصان پہنچانے کی بجائے میں خو د تباہ ہو جاؤں گا۔ہمیشہ خیر اختیار کرتے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ضد سے کام نہ لیتے تھے بلکہ جس بات میں خیر دیکھتے اسی کو اختیار کرتے تھے اور قطعاً اس بات کی پرواہ نہ کرتے کہ اس سے میرے کسی حکم کی خلاف ورزی تو نہیں ہوتی۔ہم دیکھتے ہیں کہ رجالِ سیاست دنیویہ نے اپنے اصولوں میں سے ایک یہ اصل بھی بنا رکھی ہے کہ بادشاہ یا حاکم جو حکم دے دے اور جو فیصلہ کر دے اس میں تغیر نہ کرے اور جس طرح کیا ہے اس پر قائم رہے تا کہ لوگوں کے دل میں یہ نہ خیال پیدا ہو کہ ہم نے ڈرا کر منوالیا ہے یا کم سے کم دوسروں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے کہ ایک بات کہہ کر پھر اس سے رجوع کر لیا ہے اور اس اصل پر رجالِ سیاست ایسے پکے اور قائم رہتے ہیں کہ بعض اوقات جنگوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے مگر وہ اپنی بات کی پیچ کے لیے اور دبدبہ حکومت قائم رکھنے کے لیے ملک کو جنگ میں ڈال دیتے ہیں لیکن اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اپنے فیصلہ کو واپس لے لیں۔جولوگ تاریخ انگلستان سے واقف ہیں اُن سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ ممالک متحدہ سے جنگ کی وجہ یہی ہوئی کہ انگلستان کے رجالِ سیاست ایک فیصلہ دے کر اس کو واپس نہیں لینا چاہتے تھے۔گو وہ اس بات کو خوب سمجھ گئے تھے کہ ہم غلطی کر رہے ہیں جس کا