سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 226

سيرة النبي علي 226 جلد 1 عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ بُنِيَ عَلَيَّ فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي وَجُوَيُريَاتٌ يَضْرِبُنَ بِالدُّقِ يَنْدُبُنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِهِنَّ يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى قَالَتْ جَارِيَةٌ وَفِيْنَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہے لَا تَقُوْلِيْ هَكَذَا وَقُوْلِى مَا كُنتِ تَقُوْلِيْنَ 89 یعنی جس دن میری شادی ہوئی۔اُس دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے فرش پر بیٹھ گئے اُسی طرح جس طرح تو بیٹھا ہے ( یہ بات راوی کو کہی ) اور کچھ لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور بدر کی جنگ میں جو اُن کے بزرگ مارے گئے تھے اُن کی تعریفیں بیان کر رہی تھیں یہاں تک کہ ایک لڑکی نے یہ مصرع پڑھنا شروع کیا (اس مصرع کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم میں ایک رسول ہے جو کل کی بات جانتا ہے۔اس بات کو سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ٹو کا اور فرمایا کہ یہ مت کہہ اور جو کچھ پہلے گا رہی تھی وہی گاتی جا۔یہ وہ اخلاق ہیں جو انسان کو حیران کر دیتے ہیں اور وہ ششدر رہ جاتا ہے کہ ایک انسان ان تمام کمالات کا جامع ہو سکتا ہے۔بے شک بہت سے لوگوں نے جن کی زبان تیز تھی یا قلم رواں تھی تقریر وتحریر کے ذریعہ اعلیٰ اخلاق کے بہت سے نقشہ کھینچے ہیں لیکن وہ انسان ایک ہی گزرا ہے جس نے صرف قول سے ہی نہیں بلکہ عمل سے اعلیٰ اخلاق کا نقشہ کھینچ دیا اور پھر ایسا نقشہ کہ اس کی یاد چشم بصیرت رکھنے والوں کو کبھی نہیں بھول سکتی۔ایک طرف دنیا کو ہم اپنی تعریف و مدح کا ایسا شیدا دیکھتے ہیں کہ خلاف واقعہ تعریفوں کے پل باندھ دیئے جاتے ہیں اور جن کی مدح کی جاتی ہے بجائے نا پسند کرنے کے اس پر خوش ہوتے ہیں اور ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں کہ ذرا منہ سے ایسا کلام سنا کہ جو خلاف واقعہ ہے تو باوجود اس کے کہ وہ اپنی ہی تعریف میں ہوتا اس سے روک دیتے اور کبھی اسے سننا پسند نہ فرماتے۔ہیں تفاوت راه از