سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 227
سيرة النبي علي 227 جلد 1 کجاست تا یکجا۔اہلِ دنیا کدھر کو جا رہے ہیں اور وہ ہمارا پیارا کدھر کو جاتا ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ ایسے بھی لوگ پائے جاتے ہیں کہ جو اپنی تعریف کو پسند نہیں کرتے اور بے جا تعریف کرنے والے کو روک دیتے ہیں اور بادشاہوں میں سے بھی ایسے آدمی گزرے ہیں مگر آپ کے فعل اور لوگوں کے فعل میں ایک بہت بڑا فرق ہے جو آپ کے عمل کو دوسروں کے اعمال پر امتیاز عطا کرتا ہے۔انگلستان کے مؤرخ اپنے ایک بادشاہ کیوٹ (Canute) کے اس فعل کو کبھی اپنی یاد سے اتر نے نہیں دیتے کہ اس نے اپنے بعض درباریوں کی بے جا خوشامد کو نا پسند کر کے انہیں ایسا سبق دیا جس سے وہ آئندہ کے لیے اس سے باز آ جائیں۔یعنی جب بعض لوگوں نے اس سے کہا کہ سمندر بھی تیرے ماتحت ہے تو اس نے اُن پر ثابت کر دیا کہ سمندر اس کا حکم نہیں مانتا۔مگر یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ایک دنیا وی بادشاہ تھا اور روحانی بادشاہت سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا، نہ اسے روحانی حکومت و تصرف کا ادعا تھا۔پس اگر ایک ایسی بات کا اس نے انکار کر دیا جو اس کے اپنے راہ سے علیحدہ تھی تو یہ کچھ بڑی بات نہ تھی۔اسی طرح دیگر لوگ جو جھوٹی مدح سے متنفر ہوتے ہیں ان کے حالات میں بھی بہت کچھ فرق ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی قوم میں تھے جو سرتسلیم جھکانے کے لیے صرف ایک ایسے شخص کے آگے تیار ہو سکتی تھی جو اپنی طاقت اور شان میں عام انسانوں سے بہت زیادہ ہو اور انسانی طاقت سے بڑھ کر طاقت رکھتا ہو کیونکہ اس کی رگ رگ میں حریت اور آزادی کا خون دوڑ رہا تھا۔پس اس کے سامنے اپنے آپ کو معمولی انسانوں کی طرح پیش کرنا بلکہ اگر ان میں سے کوئی آپ کی ایسی تعریف بھی کرے جو وہ اپنے بڑوں کی نسبت کرنے کے عادی تھے تو اسے روک دینا یہ ایک ایسا فعل تھا جس سے ایک اوسط درجہ کا انسان گھبرا جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کے بغیر میرا گزارہ کیونکر ہوگا۔دوم آپ کو دعویٰ تھا نبوت کا اور نبوت میں آئندہ خبریں دینا ایک ضروری امر ہے پس یہ تعریف خود آپ کے کام کی نسبت تھی گومبالغہ سے اسے اور کا اور