سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 225
سيرة النبي علي 225 جلد 1 طرف منسوب کر دیتا ہے اور واقعات اور حقیقت سے اسے کوئی غرض نہیں ہوتی جس قدر ممکن ہو جھوٹ بولتا ہے اور تعریف کا کوئی شعبہ اٹھا نہیں رکھتا۔ہر ایک رنگ سے اس کی بڑائی بیان کرتا ہے اور اس کا دل خوب جانتا ہے کہ میرے بیان میں سوواں حصہ بھی صداقت نہیں۔سننے والے بھی جانتے ہیں کہ محض بکواس کر رہا ہے مگر وہ جب اس امیر یا بادشاہ کی مجلس یا دربار میں اپنا قصیدہ پڑھ کر سناتا ہے تو ہر ایک شعر پر اپنی داد کا خواہاں ہوتا ہے اور سننے والے جو اس کی دروغ گوئی سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں قصیدہ کے ایک ایک مصرع پر ایک دوسرے سے بڑھ بڑھ کر داد دیتے اور تعریف کرتے ہیں کہ سُبْحَانَ اللہ کیا خوب کہا۔اور خود وہ امیر جس کی شان میں ہ قصیدہ کہا جاتا ہے باوجود اس علم کے کہ مجھ میں وہ باتیں ہرگز نہیں پائی جاتیں جو شاعر نے اپنے قصیدہ میں بیان کی ہیں ایک ایک شعر پر اُسے انعام دیتا اور اپنی ذات پر ناز و فخر کرتا ہے حالانکہ قصیدہ کہنے والا ، سننے والے اور جس کے حق میں کہا گیا ہے سب کے سب واقعات سے ناواقف نہیں ہوتے اور ہر ایک جانتا ہے کہ قصیدہ میں جو مضامین بیان کیے گئے ہیں ان میں ایک شمہ بھر بھی صداقت و راستی نہیں۔امراء کی قید کیا ہے عام طور پر ہر ایک انسان کا یہی حال ہے (إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ ) کہ وہ اپنی تعریف سن کر خوش ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ میری مدح کی جائے اور جب کوئی اس کی نسبت جھوٹی مدح سے بھی کام لیتا ہے تو اس کے اندر یہ جرأت نہیں ہوتی کہ اس کا انکار کر سکے بلکہ سکوت کو ہی پسند کر لیتا ہے۔مگر ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فِدَاهُ اَبِيْ وَأُمِّنی ایسے برگزیدہ اور پاک و مطهر انسان تھے کہ آپ ان کمزوریوں سے بالکل پاک تھے۔اور اگر ایک طرف ہر قسم کی خوبیوں کے جامع اور نیکیوں کے خازن تھے تو دوسری طرف آپ یہ بھی کبھی پسند نہ فرماتے تھے کہ کوئی شخص آپ کی نسبت کوئی ایسی بات بیان کرے جو درحقیقت آپ میں نہیں پائی جاتی۔ربیع بنت معوذ سے روایت ہے کہ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ