سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 224

سيرة النبي علي 224 جلد 1 چلایا۔پھر کس طرح اشارہ فرمایا کہ یہ جنگ کوئی دنیا وی جنگ نہیں بلکہ ایک مذہبی جنگ ہے اور اس کا اصل باعث کیا ہے۔صرف یہ کہ ہم خدا کو کیوں مانتے ہیں ، شرک کیوں نہیں کرتے اور کیوں کفار کی بات نہیں مان لیتے۔اس میں یہ بھی بتایا ہے کہ جنگ کی ابتدا کفار کی طرف سے ہوتی ہے اور ہمارا کام تو یہی رہا ہے کہ ہم ان کی شرارتوں کے قبول کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔میں مانتا ہوں کہ یہ شعر کسی اور کے کہے ہوئے ہیں اور آپ شعر نہیں کہتے تھے مگر موقع پر ان شعروں کو چن لینا یہ بتاتا ہے کہ آپ کس طرح نصیحت کے پہلو کو ہمیشہ اختیار کرتے تھے۔عرب ایسے موقعوں پر شعر کہنے اور پڑھنے کے عادی ہیں اور صحابہ بھی شعر کہتے تھے مگر سب اشعار میں سے ان کو چن لینا یہ حکمت سے خالی نہ تھا اور واقعات بتا رہے ہیں کہ یہ انتخاب بے معنی نہ تھا بلکہ مسلمانوں کو بہت سے ضروری مسائل کی طرف متوجہ کرنا تھا۔غرض کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ خدا کی راہ میں ہر ایک کام میں صحابہ کے شریک رہتے تھے اور یہ بات دنیا کے کسی بادشاہ میں اس حد تک نہیں پائی جاتی۔علم غیب سے انکار اب میں آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالتا ہوں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کیسا مطہر پیدا کیا تھا۔بادشاہوں کے درباروں اور رؤساء کی مجالس میں بیٹھنے والے جانتے ہیں کہ ان مقامات میں بے جا تعریف اور جھوٹی مدح کا بازار کیسا گرم رہتا ہے اور کس طرح درباری اور ہم مجلس رؤساء کی تعریف اور مدح میں آسمان اور زمین کے قلابے ملاتے ہیں اور وہ ان کو سن سن کر خوش اور شاداں ہوتے ہیں۔ایشیائی شاعری کا تو دارو مدار ہی عشقیہ غزلوں اور امراء کی مدح سرائی پر ہے۔شاعر اپنے قصیدہ میں جس امیر کی مدح کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے دنیا کی ہر ایک خوبی اس کی