سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 223
سيرة النبي علي 223 جلد 1 کو نہ دیتے مگر خود اس میں شامل ہوتے تا کہ خود بھی ثواب سے حصہ لیں اور دوسروں کو اور بھی رغبت اور شوق پیدا ہو کہ جب ہمارا آقا خود شامل ہے تو ہمیں اس کام سے کیا عار ہوسکتا ہے۔دوسرے یہ کہ انہیں چستی سے کام کرنے کی عادت ہو اور وہ آپ کے شمول کی وجہ سے جس تیزی سے کام کرتے ہوں گے اسے ان کی عادت میں داخل کر دیا جائے۔دوسرے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جس وقت آپ مدینہ تشریف لائے تھے اُس وقت آپ بالکل نووارد تھے اور ابھی آپ کی حکومت قائم نہ ہوئی تھی اور گوسینکڑوں جاں نثار موجود تھے جو اپنی جان قربان کرنے کے لیے حاضر تھے مگر پھر بھی دنیا کے لحاظ سے آپ کے ماتحت کوئی علاقہ نہ تھا مگر غزوہ احزاب کے وقت گو آپ کے لشکر کی تعداد کم تھی مگر بارہا کھلے میدانوں میں کفار کو شکست دے چکے تھے۔یہودیوں کے دو قبیلے جلا وطن ہو کر ان کی املاک مسلمانوں کے قبضہ میں آ گئی تھیں۔مدینہ اور اس کے گرد و نواح میں آپ کی حکومت قائم ہو گئی تھی۔بقیہ یہودی معاہدہ کی رو سے مسلمانوں سے دب کر صلح کر چکے تھے اس لیے اب آپ کی پہلی حالت اور اس حالت میں بہت فرق تھا اور اب آپ ایک ملک کے حاکم یا بادشاہ تھے پس اُس وقت آپ کا صحابہ کے ساتھ مل کر کام کرنا جبکہ آپ کی عمر بھی چھپن سال کی ہو چکی تھی ایک اور ہی شان رکھتا ہے اور یہ واقعہ پہلے واقعہ سے بھی زیادہ شاندار ہے۔اس واقعہ سے اس بات کی بھی مزید تائید ہو جاتی ہے کہ آپ کسی وقت نصیحت سے غافل نہ ہوتے تھے کیونکہ اب بھی آپ نے جو شعر پڑھنے کے لیے چنے ہیں وہ ایسے بامل ہیں کہ ان میں مسلمانوں کو اپنے کام میں دل لگانے کے لیے ہزاروں ترغیبیں دی ہیں۔کس طرح انہیں اللہ تعالیٰ کا احسان بتایا ہے کہ یہ خدا کا ہی فضل ہے کہ تم مسلمان ہوئے اور خدا تعالیٰ پر احسان نہ جتانا کہ اس کے دین میں کوشش کر رہے ہو بلکہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اسلام کی توفیق دی اور تمہیں ہدایت کی راہوں پر