سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 222

سيرة النبي علي 222 جلد 1 اُس وقت صحابہ کے دل و دماغ میں گشت لگا رہے ہوں گے۔اف ایک بجلی ، ایک سٹیم ہوگی جو اُس وقت ان کے اندر کام کر رہی ہو گی۔نہیں بجلی اور سٹیم کی کیا حقیقت ہے! عشق کی گرمی ان سے کام لے رہی تھی اور وہ مٹی جو وہ اپنی گردنوں اور کندھوں پر رکھتے تھے انہیں ہر ایک قسم کی نعمت سے زیادہ معلوم ہوتی تھی۔وہ بوجھ انہیں سب غموں سے چھڑا رہا تھا اور وہ مٹی انہیں ہیروں اور جواہرات سے زیادہ قیمتی معلوم ہوتی تھی جسے نبیوں کے سرتاج کے کندھوں پر رکھے جانے کا فخر حاصل تھا۔کیا کوئی مسلمان بادشاہ ایسا ہے جسے اس مٹی کے اٹھانے میں عذر ہو ؟ نہیں۔اس وقت کے اسلام سے غافل بادشاہ بھی اسے اٹھانے میں فخر سمجھیں گے پھر وہ نیکوکار گروہ اسے اپنی کیسی کچھ عزت نہ خیال کرتا ہوگا۔اور یہ سب کچھ اس لیے تھا کہ آنحضرت ﷺ ان کو ایک گھوڑے پر کھڑے ہوئے حکم نہیں دے رہے تھے بلکہ دوسروں کو حکم دینے سے پہلے آپ خود اپنے کندھوں پر مٹی کا ڈھیر رکھتے تھے۔پھر جو لوگ اپنے محبوب و آقا کومٹی ڈھوتے دیکھتے ہوں گے وہ جس شوق سے بھی اس کام کو کرتے بالکل مناسب اور بجا ہوتا۔یہ ایک ایسی اعلیٰ تدبیر تھی جس سے اگر ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت الہی ظاہر ہوتی ہے تو دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ فطرت انسانی کو خوب سمجھتے تھے اور آپ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اگر ماتحتوں میں روح پھونکنی ہو تو اس کا ایک ہی گر ہے کہ خودان کے ساتھ مل کر کام کرو۔پھر ان میں خود بخود جوش پیدا ہو جائے گا اور اس طرح آپ نے ایک نا قابل فتح لشکر تیار کر دیا جو ہر زمانے کے لیے مایہ ناز ہے۔اس حدیث سے ہمیں کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔اول تو یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک دفعہ ہی صحابہؓ کے ساتھ مل کر کام نہیں کیا بلکہ ہمیشہ کرتے تھے کیونکہ پہلا واقعہ جو میں نے بیان کیا ہے وہ آپ کی مدنی زندگی کا ابتدائی واقعہ۔اور یہ چھ سال بعد کا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آپ کی عادت تھی کہ کوئی کام کسی ہے