سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 218

سيرة النبي علي 218 جلد 1 وغیرہ اکثر اٹھاتے ہو گے اور اس کے اٹھانے میں تمہیں یہ خیال ہوتا ہوگا کہ ہم دنیا کا فائدہ اٹھائیں گے اور مال کمائیں گے مگر یہ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے لیے جو کام انسان کرتا ہے وہ گو بظاہر کیساہی ادنیٰ معلوم ہو درحقیقت نہایت پاک اور عمدہ نتائج پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔پس یہ خیال اپنے دلوں میں مت لا نا کہ ہم اس وقت کیسا ادنیٰ کام کرتے ہیں کہ مٹی اور اینٹیں ڈھو رہے ہیں بلکہ خوب سمجھ لو کہ یہ اینٹیں جو تم ڈھو رہے ہو ان کھجوروں اور میووں کے بوجھ سے جو خیبر سے آتا ہے کہیں بہتر ہیں اور اس میں تمہارے نفوس کی پاکیزگی کا سامان ہے۔ان میووں کے بوجھ کی ہستی ہی کیا ہے کہ اس مقابلہ میں اسے رکھا جائے۔ا دوسرے شعر میں آنحضرت ﷺ نے انہیں بتایا ہے کہ اس کام میں کسی مزدوری یا نفع کا خیال مت رکھنا بلکہ یہ تو خدا کا کام ہے جس میں اگر کسی نفع کی امید ہے تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوگا اور بجائے فوری نفع کے انجام کی بہتری ہو گی اور جس کا انجام اچھا ہو اس سے زیادہ کامیاب کون ہو سکتا ہے پس اسی پر نظر رکھو۔اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کر دی کہ خدایا ! یہ لوگ اپنے کام چھوڑ کر تیرے لیے مشقت اٹھا رہے ہیں تو ان پر رحم فرما۔پس شاعر نے تو جن خیالات کے ماتحت یہ اشعار کہے ہوں گے ان سے وہی واقف ہو گا مگر آپ نے ان اشعار کو پڑھ کر اس کے معانی کو وہ وسعت دے دی ہے کہ باید و شاید۔ہر کام میں صحابہ کے شریک ہوتے میں نے اس سے پہلے آنحضرت ہے کی زندگی کا ایک ایسا واقعہ بیان کیا ہے جس سے آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے اور انسانی قلب اس سے اعلیٰ سے اعلیٰ اصول طہارت نفس کے اور قومی ترقی کے نکال سکتا ہے۔اب میں ایک اور واقعہ اسی پہلے واقعہ کی تائید میں درج کرتا ہوں لیکن چونکہ وہ نئے حالات اور نئے واقعات کو لیے ہوئے ہے اس لیے اس کا ذکر بھی کسی قدر تفصیل سے ہی مناسب ہے۔