سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 217

سيرة النبي علي 217 جلد 1 شریک حال بن کر ان کو خطرناک سے خطرناک اور خوفناک سے خوفناک کام کے کرنے پر آمادہ کر دیتے تھے اور اسی طرح دنیا داروں کی نظروں میں ادنیٰ سے ادنیٰ نظر آنے والے کاموں میں بھی ساتھ شریک ہو کر ان کے دلوں سے جھوٹی عزت اور تکبر کے خیالات کو بالکل نکال دیتے تھے اور اس طریق کا آپ ان کو دس سال متواتر عادی کرتے رہے تھے تو یہ عادت انہیں کیونکر بھول سکتی تھی۔چنانچہ جب صحابہ کو اپنے سے کئی کئی گنا سپاہ سے مقابلہ پیش آیا اور اُس وقت کی گل متمدن قوموں سے ایک ہی وقت میں جنگ چھڑ گئی تو ان کے قدموں میں وہ ثبات دیکھا گیا اور ان کے ہاتھوں نے ایسی طاقت کے کارنامے دکھائے اور ان کے دلوں نے ایسی بے ہراسی اور بے خوفی کا اظہار کیا کہ دنیا دنگ ہو گئی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ آنکھوں کے سامنے آنحضرت ﷺ کا پاک نمونہ ہر وقت رہتا تھا اور وہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس دین و دنیا کے بادشاہ کو نہ بھولتے تھے اور اپنے سے دس دس گنا فوج کو الٹ کر پھینک دیتے تھے بلکہ صحابہ دوسرے عربوں کی جنگ پر بھی ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ اب دنیا کو کیا ہو گیا۔آنحضرت علی کے ماتحت تو ہم اس طرح لڑتے تھے کہ پروں کے پرے اڑا دیتے تھے اور کوئی ہمارے سامنے ٹھہر نہ سکتا تھا۔پس آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے میں تدبیر ملکی کا وہ نمونہ نمایاں ہے کہ جس کی مثال کوئی اور انسان نہیں پیش کر سکتا۔اس حدیث سے ایک اور بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ہر وقت اپنے صحابہ کو نیکی اور تقویٰ کی تعلیم دینے کا خیال رہتا تھا کیونکہ آپ نے اس موقع پر جو اشعار پچھتے ہیں وہ ایسے بے نظیر اور مناسب موقع ہیں کہ ان سے بڑھ کر ناممکن ہے۔آپ کی عادت تھی کہ آپ پورا شعر نہیں پڑھا کرتے تھے مگر صرف اس موقع پر یا ایک دو اور موقعوں پر آپ نے پورے شعر پڑھے ہیں۔ہاں آپ شعر بالکل نہ کہتے تھے اور یہ شعر بھی کسی اور مسلمان کے کہے ہوئے تھے۔ہاں تو ان اشعار میں آپ نے صحابہؓ کو بتایا ہے کہ تم خیبر کی کھجور میں اور سبزیاں