سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 216
سيرة النبي علي 216 جلد 1 برگزیدہ بندے ہیں، اس کے رسول ہیں، اس کے نبی ہیں، سب انبیاء سے افضل ہیں، آپ کی اطاعت سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے، آپ کی ہی فرمانبرداری میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے، آپ گل انبیاء کے کمالات کے جامع ہیں ، آپ کی ہی خدمت کرنے سے جنت کے دروازے کھلتے ہیں، وہ جب دیکھتے ہوں گے کہ ایسا عظیم الشان انسان خود اپنے کندھوں پر اینٹیں رکھ کر مسجد کے بنانے والوں تک پہنچاتا ہے تو ان کے اندر کن خیالات کا دریا موجزن ہوتا ہوگا اور وہ کس جوش اور کس خلوص سے اس کام کو بجا لاتے ہوں گے بلکہ کس طرح بجائے تکان کے ان کے چہروں سے بشاشت ٹپکتی ہو گی۔ان میں اچھے اچھے رؤساء بھی تھے ، سردار بھی تھے، مالدار بھی تھے ، معزز بھی تھے مگر وہ سب کے سب اپنے عقیدہ کی بنا پر اپنے آپ کو آنحضرت عے سے کم درجہ پر یقین کرتے تھے اور اپنے آپ کو خادم سمجھتے تھے۔پس جب وہ آپ کو اسی جوش سے کام کرتے ہوئے دیکھتے ہوں گے تو کیا ان کے بدن کے ہر ایک حصہ میں سنسناہٹ نہ پھیل جاتی ہوگی اور کیا امیر سے امیر انسان بھی اس بلند رتبہ انسان کی معیت میں اینٹیں ڈھونا اپنے لیے ایک نعمت عظمیٰ نہ خیال کرتا ہو گا اور بجائے ذلت کے عزت نہ جانتا ہوگا۔ہاں ان میں سے ہر ایک ایسا ہی سمجھتا ہوگا صلى الله اور بالکل ایسا ہی سمجھتا ہو گا۔اور چونکہ آنحضرت ﷺ اپنی ساری عمر میں اسی نمونہ پر قائم رہے اور آپ نے کبھی اس سنت کو ترک نہیں کیا اس لیے آپ کے صحابہ میں یہ بات طبیعت ثانی ہو گئی تھی اور وہ روزانہ ان کی معیت کے جوش سے متاثر ہو کر جس طرح کام کرتے تھے اس کے ایسے عادی ہو گئے تھے کہ آپ کی غیر حاضری میں بلکہ آپ کی وفات کے بعد بھی ان کا طریق عمل وہی تھا اور یہ ایک عام بات ہے کہ انسان جس کام کو کچھ مدت تک لگا تار کرتا رہے اس کا عادی ہو جاتا ہے اور جو لوگ ابتدا میں ستی کی عادت ڈال لیتے ہیں وہ مست ہی رہتے ہیں اور جو چستی سے کام کرنے کے عادی ہوں وہ اسی طریق پر کام کیے جاتے ہیں۔پس جبکہ آنحضرت علی ہر ایک کام میں صحابہ کے