سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 215
سيرة النبي علي 215 جلد 1 اپنے فرائض کے ادا کرنے میں کوتاہی کریں گے اور بہانہ ہی ڈھونڈتے رہیں گے کہ کسی طرح اپنی جان چھڑا ئیں۔آنحضرت علی نے اس گر کو ایسا سمجھا تھا کہ آپ کی ساری زندگی اس قسم کی مثالوں سے پُر ہے۔آپ اپنے ماتحتوں کو جو حکم بھی دیتے اس میں خود بھی شریک ہوتے اور آپ کی نسبت کوئی انسان یہ نہ کہ سکتا تھا کہ آپ صحابہ کو مشکلات میں ڈال کر خود آرام سے بیٹھ رہتے ہیں بلکہ آپ ہر ایک کام میں شریک ہو کر ان کے لیے ایک ایسی اعلیٰ اور ارفع نظیر قائم کر دیتے کہ پھر کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا موقع نہ رہتا۔اگر کوئی افسر اپنے ماتحتوں کو کوئی حکم دے کر خود آرام سے پیچھے بیٹھ رہے تو ضرور ان کے دل میں خیال گزرے گا کہ یہ شخص خود تو آرام طلب ہے مگر دوسروں کو ان کی طاقت سے بڑھ کر کام دیتا ہے۔اور گو مفوضہ کام زیادہ بھی نہ ہو تو بھی وہ بالطبع خیال کریں گے کہ انہیں ان کی طاقت سے زیادہ کام دیا گیا ہے اور اس بے دلی کی وجہ سے وہ جس قدر کام کر سکتے ہیں اُس سے نصف بھی نہ کر سکیں گے اور جو کچھ کریں گے بھی وہ بھی ادھورا ہوگا۔مگر جب خود افسر اس کام میں شریک ہوگا اور سب سے آگے اس کا قدم پڑتا ہو گا تو ماتحت شکایت تو الگ رہی اپنی طاقت اور قوت کا سوال ہی بھول جائیں گے اور ان میں کوئی اور ہی روح کام کرنے لگے گی۔اور اسی حکمت سے کام لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی زندگیوں میں ایسی تبدیلی پیدا کر دی تھی کہ وہ معمولی انسانوں سے بہت زیادہ کام کرنے والے ہو گئے تھے۔وہ ہر ایک کام میں اپنے سامنے ایک نمونہ دیکھتے تھے حتی کہ اگر اینٹیں ڈھونے کا کام بھی ہوتا تھا جو عام مزدوروں کا کام ہے اور ان کا رسول انہیں اس کام کے کرنے کا حکم دیتا تھا تو سب سے پہلے وہ خود اس کام کی ابتدا کرتا تھا جس کی وجہ سے مردہ دلوں کے دل زندہ اور سستوں کے بدن چست اور کم ہمتوں کی ہمتیں بلند ہو جاتی تھیں۔ہر ایک عظمند اس بات کو سوچ کر معلوم کر سکتا ہے کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ یقین رکھتے تھے کہ آپ خدا تعالیٰ کے