سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 213

سيرة النبي علي 213 جلد 1 جہاں آپ سب سے پہلے آ کر ٹھہرے تھے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔اور لوگ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے یہاں تک کہ آپ کی اونٹنی اُس جگہ پر جا کر بیٹھ گئی جہاں بعد میں آنحضرت عہ کی مسجد بنائی گئی اور اُس جگہ اُن دنوں میں کچھ مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ سہیل اور سہل نامی دولڑکوں کی کھجور میں سکھانے کا مقام تھا جو یتیم تھے اور اسعد بن زرارہ کی ولایت میں تربیت پا رہے تھے۔پس رسول اللہ ﷺ نے جب آپ کی اونٹنی وہاں بیٹھ گئی تو فرمایا کہ انشاء اللہ یہاں ہمارے رہنے کی جگہ ہوگی۔پھر رسول اللہ علیہ نے ان دونوں لڑکوں کو جن کی وہ جگہ تھی بلوایا اور ان سے اس جگہ کی قیمت دریافت کی تا کہ وہاں آپ مسجد تیار کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے ہاتھ فروخت نہیں کرتے بلکہ آپ کو ہبہ کرتے ہیں۔مگر رسول اللہ ﷺ نے ان سے بطور ہبہ کے وہ زمین لینے سے انکار کر دیا۔یہاں تک کہ ان دونوں لڑکوں نے وہ زمین فروخت کر دی۔پھر آپ نے وہاں مسجد بنانی شروع کی اور مسجد بنتے وقت آپ خود بھی صحابہ کے ساتھ اینٹیں ڈھوتے تھے اور ڈھوتے وقت یہ شعر پڑھتے جاتے تھے۔یہ بوجھ خیبر کا بوجھ نہیں بلکہ اے ہمارے رب ! یہ اُس سے زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہے۔اسی طرح آپ یہ شعر بھی پڑھتے اے خدا! بدلہ تو وہی بہتر ہے جو آخرت کا ہو۔پس جب یہ بات ہے تو تو مہاجرین اور انصار پر رحم فرما۔اس حدیث میں آپ کا یہ قول کہ یہ بوجھ خیبر کا بوجھ نہیں اس سے یہ مراد ہے کہ لوگ خیبر سے کھجوریں یا اور پھل پھول ٹوکروں میں بھر کر لایا کرتے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ اینٹیں جو ہم اٹھا رہے ہیں یہ اُس بوجھ کی طرح نہیں ہیں بلکہ اُس میں تو دنیا کا فائدہ ہوتا ہے اور اس بوجھ کے اٹھانے سے آخرت کا فائدہ ہے اس لیے یہ بوجھ اُس بوجھ سے بہت بہتر اور عمدہ ہے۔اس حدیث کو پڑھ کر کون انسان ہے جو حیرت میں نہ پڑ جائے۔آنحضرت علی۔