سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 212

سيرة النبي علي 212 جلد 1 ہوں۔مختلف خوبیوں میں مختلف لوگ باکمال ہوتے ہیں مگر یہ دین و دنیا کا بادشاہ تو ہر بات میں دوسروں پر فائق تھا۔جو بات بھی لو اس میں آپ کو صاحب کمال پاؤ گے۔میں نے پچھلے باب میں بتایا تھا کہ آپ اپنے گھر میں بیویوں کو ان کے کاموں میں مدد دیتے تھے مگر اب اس سے زیادہ میں ایک واقعہ بتا تا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں آپ کسی ادنیٰ سے ادنی کام میں بھی حرج نہ دیکھتے تھے بلکہ اس میں فخر محسوس کرتے تھے اور صحابہ کے دوش بدوش ہو کر ہر ایک چھوٹے سے چھوٹا کام کرتے اور کبھی یہ نہ ہوتا کہ انہیں حکم دے دیں اور آپ خاموش ہو کر بیٹھ رہیں۔صحابہ کی خوشی تو اسی میں تھی کہ آپ آرام فرما ئیں اور وہ آپ کے سامنے اپنی فدائیت اور اخلاص کے جو ہر دکھا ئیں مگر آپ کبھی اس کو پسند نہ فرماتے اور ہر کام میں خود شریک ہوتے اور صحابہ کا ہاتھ بٹاتے۔حضرت عائشہ ہجرت کے متعلق ایک لمبی حدیث بیان کر کے فرماتی ہیں کہ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَسَارَ يَمْشِي مَعَهُ النَّاسُ حَتَّى بَرَكَتُ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُوْلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُصَلِّي فِيْهِ يَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ وَكَانَ مِرْبَدًا لِلتَّمْرِ لِسُهَيْل وَسَهْلِ غُلَامَيْنِ يَتِيْمَيْنِ فِي حَجْرٍ به أَسْعَدَ بن زُرَارَةَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ بَرَكَتْ رَاحِلَتُهُ هذَا إِنْ شَاءَ اللهُ الْمَنْزِلُ ثُمَّ دَعَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلَامَيْنِ فَسَاوَمَهُمَا بِالْمِرْبَدِ لِيَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا فَقَالَا لَا بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَأَبَى رَسُوْلُ اللهِ الله اللهم أن يَقْبَلَهُ مِنْهُمَا هِبَةً حَتَّى ابْتَاعَهُ مِنْهُمَا ثُمَّ بَنَاهُ مَسْجِدًا وَطَفِقَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ اللَّبنَ فِى بُنْيَانِهِ وَيَقُوْلُ هَذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَرَ هَذَا أَبَرُّ رَبَّنَا وَأَطْهَرُ وَيَقُوْلُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْأَجْرَ أَجْرُ الْآخِرَةِ فَارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ 86 یعنی پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور بنی عمرو بن عوف کے پاس سے