سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 214
سيرة النبي علي 214 جلد 1 کے ارشاد پر قربان ہونے والوں کا ایک گروہ موجود تھا جو آپ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار تھے مگر آپ کا یہ حال ہے کہ خود اپنے جسم مبارک پر اینٹیں لا دکر ڈھو رہے ہیں۔یہ وہ کمال ہے جو ہر ایک بے تعصب انسان کو خود بخود آپ کی طرف کھینچ لیتا ہے اور چشم بصیرت رکھنے والا حیران رہ جاتا ہے کہ یہ پاک انسان کن کمالات کا تھا کہ ہر ایک بات میں دوسروں سے بڑھا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کی عبادت کے لیے ایک گھر بن رہا ہے اور آپ اس کی اینٹیں ڈھونے کے ثواب میں بھی شامل ہیں۔خود اپنے کندھوں پر اینٹیں رکھتے ہیں اور مسجد کی تعمیر کرنے والوں کو لا کر دیتے ہیں۔یہ وہ عمل تھا جس نے آپ کو ابراہیم کا سچا وارث اور جانشین ثابت کر دیا تھا کیونکہ اگر حضرت ابراہیم نے خود اینٹیں ڈھو کر کعبہ کی تعمیر کی تھی تو اس وارث علوم سماویہ نے مدینہ منورہ کی مسجد کی تعمیر میں اینٹیں ڈھونے میں اپنے اصحاب کی مدد کی۔کہنے کو تو سب بزرگی اور تقویٰ کا دعویٰ کرنے کو تیار ہیں مگر یہ عمل ہی ہے جو پاکبازی اور زبانی جمع خرچ کرنے والوں میں تمیز کر دیتا ہے اور عمل ہی میں آ کر سب مدعیانِ تقومی کو آپ کے سامنے با ادب سر جھکا کر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔اس حدیث سے اگر ایک طرف ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کسی قسم کے کام کرنے سے خواہ وہ بظاہر کیسا ہی ادنیٰ کیوں نہ ہو کسی قسم کا عار نہ تھا۔آپ اس معبود حقیقی کی رضا کی تمام راہوں میں دوسروں سے آگے قدم مارتے تھے تو دوسری طرف یہ امر بھی روشن ہو جاتا ہے کہ آپ ماتحتوں سے کام لینے کے ہر فن میں بھی اپنی نظیر آپ ہی تھے۔تاریخ نے ہزاروں لاکھوں برسوں کے تجربات کے بعد ثابت کیا ہے کہ ماتحتوں میں جوش پیدا کرنے اور انہیں اپنے فرائض کے ادا کرنے میں ہوشیار بنانے کا سب سے اعلیٰ اور عمدہ نسخہ یہی ہے کہ خود آفیسر بھی انہیں کام کر کے دکھا ئیں۔اور جو شخص خود کام کرے گا اُس کے ماتحت بھی ضرور کام میں چست و چالاک ہوں گے مگر جو آفیسر کام سے جی چرائے گا اُس کے ماتحت بھی