سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 204
سيرة النبي علي 204 جلد 1 کے ساتھ اپنے شاہانہ رعب و داب کو گل ایشیا پر قائم کیے ہوئے تھا تو دوسری طرف روم اپنے مغربی جاہ و جلال کے ساتھ اپنے حاکمانہ دست تصرف کو افریقہ اور یورپ پر ا پھیلائے ہوئے تھا اور یہ دونوں ملک عیش و طرب میں دوسری حکومتوں کو کہیں پیچھے چھوڑ چکے تھے اور آرائش و آرام کے ایسے سامان پیدا ہو چکے تھے کہ بعض باتوں کو تو اب اس زمانہ میں بھی کہ آرام و آسائش کے سامانوں کی ترقی کمال درجہ کو پہنچ چکی ہے نگاہ حیرت سے دیکھا جاتا ہے۔دربار ایران میں شاہانِ ایران جس شان و شوکت کے ساتھ بیٹھنے کے عادی تھے اور اُن کے گھروں میں جو کچھ سامانِ طرب جمع کیے جاتے تھے اُسے شاہنامہ کے پڑھنے والے بھی بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور جنہوں نے تاریخوں میں اُن سامانوں کی تفصیل کا مطالعہ کیا ہے وہ تو اچھی طرح سے ان کا اندازہ کر سکتے ہیں۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ دربار شاہی کی قالین میں بھی جواہرات اور موتی ٹنکے ہوئے تھے اور باغات کا نقشہ زمردوں اور موتیوں کے صرف سے تیار کر کے میدان دربار کو شاہی باغوں کا مماثل بنا دیا جاتا تھا۔ہزاروں خدام اور غلام، شاہ ایران کے ساتھ رہتے اور ہر وقت عیش وعشرت کا بازار گرم رہتا تھا۔رومی بادشاہ بھی ایرانیوں سے کم نہ تھے اور وہ اگر ایشیائی شان وشوکت کے شیدا نہ تھے تو مغربی آرائش اور زیبائش کے دلدادہ ضرور تھے۔جن لوگوں نے رومیوں کی تاریخ پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ رومیوں کی حکومتوں نے اپنی دولت کے ایام میں دولت کو کس طریق سے خرچ کیا ہے۔پس عرب جیسے ملک میں پیدا ہو کر جہاں دوسروں کو غلام بنا کر حکومت کرنا فخر سمجھا جاتا تھا اور جو روم و ایران جیسی مقتدرحکومتوں کے درمیان واقع تھا کہ ایک طرف ایرانی عیش وعشرت اسے لبھا رہی تھی تو دوسری طرف رومی زیبائش و آرائش کے سامان اس کا دل اپنی طرف کھینچ رہے تھے صلى الله آنحضرت علی کا بادشاہ عرب بن جانا اور پھر ان باتوں میں سے ایک سے بھی متاثر نہ ہونا اور روم و ایران کے دام تزویر سے صاف بچ جانا اور عرب کے بُت کو مار کر گرا