سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 205
سيرة النبي علي 205 جلد 1 دینا کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جسے دیکھ کر پھر بھی کوئی دانا انسان آپ کے پاکبازوں کا سردار اور طہارت النفس میں کامل نمونہ ہونے میں شک کر سکے؟ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔علاوہ اس کے کہ آپ کے اردگرد بادشاہوں کی زندگی کا جو نمونہ تھا وہ ایسا نہ تھا کہ اس سے آپ وہ تاثر حاصل کرتے جن کا اظہار آپ کے اعمال کرتے ہیں۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا درجہ دے دیا تھا کہ اب آپ تمام مخلوقات کے مربع افکار ہو گئے تھے اور ایک طرف روم آپ کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اور دوسری طرف ایران آپ کے ترقی کرنے والے اقبال کو شک وشبہ کی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور دونوں متفکر تھے کہ اس سیلاب کو روکنے کے لیے کیا تدبیر اختیار کی جائے اس لیے دونوں حکومتوں کے آدمی آپ کے پاس آتے جاتے تھے اور ان کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ شروع تھا ایسی صورت میں بظاہر ان لوگوں پر رعب قائم کرنے کے لیے ضروری تھا کہ آپ بھی اپنے ساتھ ایک جماعت غلاموں کی رکھتے اور اپنی حالت ایسی بناتے جس سے وہ لوگ متاثر اور مرعوب ہوتے مگر آپ نے کبھی ایسا نہ کیا۔غلاموں کی جماعت تو الگ رہی گھر کے کام کاج کے لیے بھی کوئی نوکر نہ رکھا اور خود ہی سب کام کر لیتے تھے۔حضرت عائشہؓ کی نسبت لکھا ہے کہ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ يَكُوْنُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ تَعْنِى فِى خِدْمَةِ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ 81 یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے؟ آپ نے جواب دیا کہ آپ اپنے اہل کی محنت کرتے تھے یعنی خدمت کرتے تھے۔پس جب نماز کا وقت آ جاتا آپ نماز کے لیے باہر چلے جاتے تھے۔اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کس سادگی کی زندگی بسر فرماتے تھے اور بادشاہت کے باوجود آپ کے گھر کا کام کاج کرنے والا کوئی نوکر نہ ہوتا بلکہ آ۔اپنے خالی اوقات میں خود ہی اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ مل کر گھر کا کام کاج کروا