سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 195

سيرة النبي علي 195 جلد 1 کسی کی درخواست پر کام سپرد نہ فرماتے لوگوں کا قاعدہ ہوتا ہے کہ امراء سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہزاروں قسم کی تدابیر سے کام لیتے ہیں اور جب ان کے مزاج میں دخل پیدا ہو جاتا ہے تو اپنی منہ مانگی مرادیں پاتے ہیں اور جو کہتے ہیں وہ امراء مان لیتے ہیں۔مگر آنحضرت ﷺ ایسے محتاط تھے کہ آپ کے دربار میں بالکل یہ بات نہ چل سکتی تھی۔آپ کبھی کسی کے کہنے میں نہ آتے تھے اور آپ کے حضور میں باتیں بنا کر اور آپ کو خوش کر کے یا خوشامد سے یا سفارش سے کام نہ چل سکتا تھا۔آپ کا طریق عمل یہ تھا کہ آپ تمام عہدوں پر ایسے ہی آدمیوں کو مقرر فرماتے تھے جن کو ان کے لائق سمجھتے تھے کیونکہ بصورت دیگر خطرہ ہوسکتا ہے کہ رعایا یا حکومت کو نقصان پہنچے یا خود عُمال کا ہی دین خراب ہو۔پس کبھی کسی عہدہ پر سفارش یا درخواست سے کسی کا تقرر نہ فرماتے اور وہ نظارے جو دنیاوی بادشاہوں کے درباروں میں نظر آتے ہیں دربارِ نبوت میں بالکل معدوم تھے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِى رَجُلَانِ مِنَ الْأشْعَرِيّيْنَ فَقُلْتُ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَان الْعَمَلَ فَقَالَ لَنْ أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَةَ 77 یعنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ اشعری قبیلہ کے دو اور آدمی صلى الله بھی تھے۔ان دونوں نے آنحضرت مکہ سے درخواست کی کہ انہیں کوئی ملازمت دی جائے۔اس پر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے علم نہ تھا کہ یہ کوئی ملا زمت چاہتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہم اسے جو خود خواہش کرے اپنے عمال میں ہرگز نہیں مقرر کریں گے یا فرمایا کہ نہیں مقرر کریں گے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب سرور کائنات کو بنی نوع انسان کی بہتری کا کتنا خیال تھا۔اللہ اللہ !! یا تو یہ زمانہ ہے کہ حکومتوں کے بڑے سے بڑے عہدے خود درخواست کرنے پر ملتے ہیں یا آپ کی احتیاط تھی کہ درخواست کرنے والے کو کوئی