سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 194

سيرة النبي علي 194 جلد 1 طرف کا ہو رہتا ہے اور اس وجہ سے اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ حق و حکمت کی شاہراہ سے بھٹک کر کہیں کے کہیں نکل جاتے ہیں اور سچائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے کامل انسان تھے کہ آپ مصائب سے گھبرا کر ایک ہی طرف متوجہ نہ ہو جاتے تھے بلکہ ہر وقت گل ضروریات پر آپ کی نظر رہتی تھی۔اور اس دعا سے ہی آپ کے اس کمال پر کافی روشنی پڑ جاتی ہے کیونکہ آپ صرف دنیا کے مصائب اور مشکلات کو مدنظر نہ رکھتے تھے بلکہ جب دنیاوی مشکلات کے حل کرنے کے لیے اپنے مولا سے فریاد کرتے تو ساتھ ہی مَا بَعْدَ الْمَوْتِ کی جو ضروریات ہیں ان کے لیے بھی امداد طلب کرتے۔اور جب قیامت کے دل ہلا دینے والے نظاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے لا کر خدا تعالیٰ کی نصرت کے لیے درخواست کرتے تو ساتھ ہی اس دنیا کی مشکلات کے دور کرنے کے لیے بھی جو مزرعہ آخرت ہے التجا کرتے اور کسی مشکل یا تکلیف کو حقیر نہ جانتے بلکہ نہایت احتیاط سے دنیاوی اور دینی ترقیوں کے لیے بغیر کسی ایک کی طرف سے غافل ہونے کے اللہ تعالیٰ سے سے مدد مانگتے رہتے۔علاوہ ازیں اس دعا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی دعاؤں کے الفاظ میں بھی نہایت احتیاط برتتے تھے کیونکہ آپ نے یہ دعا نہیں فرمائی کہ یا الہی ! ہمیں دین اور دنیا دے بلکہ یہ دعا فرمائی ہے کہ الہی ! ہمیں دین اور دنیا کی بہتری عنایت فرما کیونکہ بعض دفعہ دنیا تو ملتی ہے مگر وہ بجائے فائدہ کے نقصان رساں ہو جاتی ہے۔اسی طرح دین بھی بعض لوگوں کو ملتا ہے مگر وہ اس کے ملنے کے باوجود کچھ سکھ نہیں پاتے اس لیے آپ نے دعا میں یہ الفاظ بڑھا دیئے کہ الہی ! دنیا کی بہتری ہمیں دے۔یعنی دنیا کے جس حصہ میں بہتری ہو ہمیں وہ ملے۔ایسا کوئی حصہ دنیا ہمیں نہ ملے جس کے ملنے سے بجائے فائدہ کے نقصان ہو اور آخرت میں بھی ہمیں بھلائی ملے نہ کہ کسی قسم کی برائی کے ہم حقدار ہوں۔