سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 192

سيرة النبي علي 192 جلد 1 انہیں دینِ اسلام سکھا ئیں۔آپ نے ان کی درخواست پر چھ صحابہؓ کو حکم دیا کہ وہاں جا کر انہیں اسلام سکھائیں اور قرآن شریف پڑھائیں۔ان صحابہؓ کا عامر بن عاصم رض رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا۔جب یہ لوگ صحابہ کو لے کر چلے تو راستہ میں ان سے شرارت کی اور عہد شکنی کر کے ہذیل قبیلہ کے لوگوں کو اکسایا کہ انہیں پکڑ لیں۔انہوں نے ایک سو آدمی ان چھ آدمیوں کے مقابلہ میں بھیجا۔صحابہ ایک پہاڑ پر چڑھ گئے۔کفار نے ان سے کہا کہ وہ اتر آئیں وہ انہیں کچھ نہ کہیں گے۔حضرت عامر نے جواب دیا کہ انہیں کافروں کے عہد پر اعتبار نہیں وہ نہیں اتریں گے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ہماری حالت کی رسول اللہ ﷺ کو خبر دے دے۔مگر چھ میں سے تین آدمی کفار پر اعتبار کر کے اتر آئے۔مگر جب انہوں نے ان کے ہاتھ باندھنے چاہے تو ایک صحابی نے انکار کر دیا کہ یہ تو خلاف معاہدہ ہے مگر وہاں معاہدہ کون سنتا تھا اس صحابی کو قتل کر دیا گیا۔باقی دو میں سے ایک کو صفوان بن امیہ نے جو مکہ کا ایک رئیس تھا خرید لیا اور اپنا غلام کر کے نسطاس کے ساتھ بھیجا کہ حرم سے باہر اس کے دو بیٹوں کے بدلہ قتل کر دے۔نسطاس نے قتل کرنے سے پہلے ابن الدشنہ (اس صحابی ) سے پوچھا کہ تجھے خدا کی قسم سچ بتا کہ کیا تیرا دل چاہتا ہے کہ تمہارا رسول اس وقت یہاں ہمارے ہاتھ میں ہو اور ہم اسے قتل کریں اور تو آرام سے اپنے گھر میں اپنے بیوی بچوں میں بیٹھا ہو؟ ابن الدشمنہ نے جواب دیا کہ میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ محمد ﷺ وہاں ہوں جہاں اب ہیں (یعنی مدینہ میں ) اور ان کے پاؤں میں کوئی کانٹا چھے اور میں گھر میں بیٹھا ہوا ہوں۔اس بات کو سن کر ابوسفیان جو اُس وقت تک اسلام نہ لایا تھا وہ بھی متاثر ہو گیا اور کہا کہ میں نے کسی کو کسی سے اتنی محبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنی محمد کے صحابی محمد سے محبت کرتے تھے۔یہ وہ اخلاص تھا جو صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا اور یہی وہ اخلاص