سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 191
سيرة النبي علي 191 جلد 1 سکتا ہوں اور اس فیصلہ سے آنحضرت ﷺ نے گویا نصف بوجھ مسلمانوں پر سے اٹھا دیا اور فیصلہ کر دیا کہ دو میں سے ایک چیز تو انہی کے ہاتھ میں رہنے دی جائے۔اور جب ہوازن نے قیدیوں کی واپسی کی درخواست کی تو آپ نے پھر بھی مسلمانوں کو سب قیدی واپس کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ کہ دیا کہ جو چاہے اپنی خوشی سے آزاد کر دے اور جو چاہے اپنا حصہ قائم رکھے۔آئندہ اللہ تعالیٰ جو سب سے پہلا موقع دے اس پر اس کا قرضہ اتار دیا جائے گا اور اس طرح گویا ان تمام کمزور طبیعت کے آدمیوں پر رحم کیا جو ہر قوم میں پائے جاتے ہیں مگر ہزار آفرین ہے اس جماعت پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے بنی تھی کہ آپ کا ارشادسن کر ایک نے بھی نہیں کہا کہ ہم آئندہ حصہ لے لیں گے بلکہ سب نے بالا تفاق کہہ دیا کہ ہم نے حضور کی خاطر سب قیدیوں کو خوشی سے رہا کر دیا مگر آپ نے اس پر بھی احتیاط سے کام لیا اور حکم دیا کہ پھر مشورہ کر لیں ایسا نہ ہو بعض کی مرضی نہ ہو اور ان کی حق تلفی ہو۔اپنے اپنے سرداروں کی معرفت اپنے فیصلہ سے اطلاع دو۔چنانچہ جب قبائل کے سرداروں کی صلى الله معرفت آنحضرت ﷺ کو جواب ملا تو تب آپ نے غلام آزاد کیے۔سُبْحَانَ اللهِ۔کیسی احتیاط ہے اور کیا بے نظیر تقویٰ ہے!! آپ نے یہ بات بالکل برداشت نہ کی کہ کوئی شخص آپ پر یہ اعتراض کرے کہ آپ نے زبردستی ہوازن کے غلام آزاد کرا دیئے۔اور چونکہ اس قبیلہ سے آپ کا رضاعی تعلق تھا اس لیے آپ نے خاص احتیاط سے کام لیا اور بار بار چ چھ کر قید یان ہوازن کو آزادی دی۔اگر کسی شخص نے بچے مرید اور کامل متبع دیکھنے ہوں تو وہ آنحضرت بچے مرید صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھے جو اپنے جان و مال کو رسول کریم ﷺ کے نام پر قربان کر دینے میں ذرا دریغ نہ کرتے تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ عضل اور قارۃ دو قبیلوں کے کچھ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہماری قوم اسلام کے قریب ہے آپ کچھ آدمی بھیجئے جو