سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 193

سيرة النبي علي 193 جلد 1 تھا جس نے انہیں ایمان کے ہر ایک شعبہ میں پاس کرا دیا تھا اور انہوں نے خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔اے احمدی جماعت کے مخلصو! تم بھی مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک رسول کریم ﷺ اور پھر مامور وقت مسیح موعود علیہ السلام سے ایسی ہی محبت نہ رکھو۔عروسة جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں آنحضرت عے ہر آنحضرت ﷺ کی دعا معاملہ میں نہایت حزم اور احتیاط سے کام لیتے تھے۔اب میں ایک حدیث نقل کر کے بتانا چاہتا ہوں کہ آپ دعا میں بھی نہایت محتاط تھے اور کبھی ایسی دعا نہ فرماتے جو یکطرفہ ہو بلکہ ایسی ہی دعا کرتے جس میں تمام پہلو مدنظر رکھے جائیں جیسا کہ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 75 یعنی نبی کریم ع اکثر اوقات یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ! ہمیں اس دنیا میں بھی نیکی اور بھلائی دے اور آخرت میں بھی نیکی اور بھلائی عنایت فرما اور عذاب نار سے ہمیں محفوظ رکھ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بھی آپ کی اس دعا کا ذکر فرمایا ہے فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ - وَمِنْهُمْ مَّنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً و فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 76 یعنی لوگوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتے ہیں کہ الہی ! اس دنیا کا مال ہمیں مل جائے اور ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔اور کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! اس دنیا کی بھلائی بھی ہمیں پہنچا اور آخرت کی نیکی بھی ہمیں پہنچا اور آگ کے عذاب سے ہمیں محفوظ رکھ۔اب اس دعا پر غور کرنے سے پتہ لگ سکتا ہے کہ آپ کس قدر احتیاط سے کام فرماتے تھے۔عام طور پر انسان کا قاعدہ ہے کہ جو مصیبت پڑی ہوئی ہو اُسی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور دوسرے تمام امور کو اپنے ذہن سے نکال دیتا ہے اور ایک ہی