سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 190

سيرة النبي علي 190 جلد 1 تو آپ واپس فرما دیں کیونکہ تقسیم غنائم سے پہلے آپ کا حق تھا کہ آپ جس طرح چاہتے ان اموال اور قیدیوں سے سلوک کرتے خواہ بانٹ دیتے ، خواہ بیت المال کے سپرد فرماتے ، خواہ قیدیوں کو آزاد کر دیتے اور مال واپس کر دیتے۔مگر باوجود انتظار کے ہوازن کا کوئی وفد نہ آیا جو اپنے اموال اور قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کرتا اس لیے مجبوراً دس دن سے زیادہ انتظار کر کے طائف سے واپس ہوتے ہوئے جعرانہ میں آپ نے ان اموال اور غلاموں کو تقسیم کر دیا۔تقسیم کے بعد ہوازن کا وفد بھی آ پہنچا اور رحم کا طلبگار ہوا اور اپنا حق بھی بتا دیا کہ یہ قیدی غیر نہیں ہیں بلکہ جناب کے ساتھ کچھ رشتہ اور تعلق رکھتے ہیں اور اس خاندان کی عورتیں ان قیدیوں میں شامل ہیں جس میں کسی عورت کا حضور نے دودھ بھی پیا ہے اور اس لحاظ سے وہ آپ کی مائیں اور خالائیں اور کھلائیاں اور دائیاں کہلانے کی مستحق ہیں پس ان پر رحم کر کے قیدیوں کو آزاد کیا جائے اور اموال واپس کیے جائیں۔تقسیم سے پہلے تو حضور ضرور ہی ان کی درخواست کو قبول کر لیتے اور آپ کا طریق عمل ثابت کرتا ہے کہ جب کبھی بھی کوئی رحم کا معاملہ پیش ہوا ہے حضور سرور کائنات ﷺ نے بے نظیر رحم سے کام لیا ہے۔مگر اب یہ مشکل پیش آ گئی تھی کہ اموال و قیدی تقسیم ہو چکے تھے اور جن کے قبضہ میں وہ چلے گئے تھے اب وہ ان کا مال تھا۔اور گو وہ لوگ اپنی جان و مال کو اس حبیب خدا کی مرضی پر قربان کرنے کے لیے تیار تھے اور انہوں نے سینکڑوں موقعوں پر قربان ہو کر دکھا بھی دیا مگر پھر بھی ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں، کچھ کمزور اور ناتواں ہوتے ہیں، کچھ قوی دل اور دلیر اس لیے حضور نے اس موقع پر نہایت احتیاط سے کام لیا اور بجائے اس کے کہ فوراً صحابہ کو حکم دیتے کہ ہوازن سے میرا رضاعی رشتہ ہے تم ان کے اموال اور قیدی رہا کر دو اول تو خود ہوازن کو ہی ملامت کی کہ تم نے دیر کیوں کی۔اگر تم وقت پر آ جاتے تو جس طرح اور عرب قبائل سے سلوک کیا کرتے تھے تم پر بھی احسان کیا جاتا اور تمہارا سب مال اور قیدی تم کو مل جاتے مگر خیر اب تم کو اموال اور قیدیوں میں سے ایک چیز دلوا