سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 183

سيرة النبي علي 183 جلد 1 ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کے اموال کا خیال رکھنے کے علاوہ ان کے ایمانوں کا بھی خیال رکھتے تھے اور کبھی ایسے چندوں کو قبول نہ فرماتے جو بعد میں کسی وقت چندہ دہندگان کے لیے وبالِ جان ثابت ہوں یا کسی وقت اسے افسوس ہو کہ میں نے کیوں فلاں مال اپنے ہاتھ سے کھو دیا آج اگر میرے پاس ہوتا تو میں اس سے فائدہ اٹھاتا۔مکہ میں جب تکالیف بڑھ گئیں اور ظالموں کے ظلموں سے تنگ آ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے اپنے صحابہ کو دوسرے ممالک میں نکل جانے کا حکم دینا پڑا اور بعد ازاں خود بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنا وطن عزیز ترک کر کے مدینہ کی طرف ہجرت اختیار کرنی پڑی تو آپ پہلے مدینہ سے کچھ فاصلہ پر بنی عمرو بن عوف کے مہمان رہے اور دس دن سے کچھ زیادہ وہاں ٹھہرے۔اس کے بعد آپ مدینہ تشریف لائے۔اور چونکہ یہاں مستقل طور پر رہنا تھا اس لیے مکانات کی بھی ضرورت تھی اور سب سے زیادہ ایک مسجد کی ضرورت تھی جس میں نماز پڑھی جائے اور سب مسلمان وہاں اکٹھے ہو کر اپنے رب کا نام لیں اور اس کے حضور میں اپنے عجز وانکسار کا اظہار کریں اور آنحضرت ﷺ جو ہر وقت اللہ تعالیٰ ہی کے خیال میں رہتے تھے اور آپ کا ہر ایک فعل عظمتِ الہی کو قائم کرنے والا تھا آپ کو ضرور بالضرور سب سے پہلے تعمیر مسجد کا خیال پیدا ہونا چاہیے تھا۔چنانچہ جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے جو بات آپ نے کی وہ مسجد کی تعمیر کے متعلق تھی۔اور سب سے پہلے آپ نے جو کام کیا وہ یہی تھا کہ اپنے محبوب و مطلوب کے ذکر کا مقام اور اس کے حضور گر نے اور عبادت کرنے کی جگہ تیار کریں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ہمارے مطاع و آقا خاتم النبین ﷺ کی زوجہ مطہرہ تھیں آپ نے ایک طویل حدیث میں تمام واقعہ ہجرت مفصل بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتی ہیں فَلَبتَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ