سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 182

سيرة النبي علي 182 جلد 1 اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اموال کی تقسیم میں ایسے محتاط تھے کہ باوجود اس کے کہ حضرت فاطمہ کو ایک خادم کی ضرورت تھی اور چکی پینے سے آپ کے ہاتھوں کو تکلیف ہوتی تھی مگر پھر بھی آپ نے اُن کو خادم نہ دیا بلکہ دعا کی تحریک کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی متوجہ کیا۔آپ اگر چاہتے تو حضرت فاطمہ کو خادم دے سکتے تھے کیونکہ جو اموال تقسیم کے لیے آپ کے پاس آتے تھے وہ بھی صحابہ میں تقسیم کرنے کے لیے آتے تھے اور حضرت علیؓ کا بھی ان میں حق ہو سکتا تھا اور حضرت فاطمہ بھی اس کی حقدار تھیں لیکن آپ نے احتیاط سے کام لیا اور نہ چاہا کہ ان اموال میں سے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو کچھ دے دیں کیونکہ ممکن تھا کہ اس سے آئندہ لوگ کچھ کا کچھ نتیجہ نکالتے اور بادشاہ اپنے لیے اموال الناس کو جائز سمجھ لیتے۔پس احتیاط کے طور پر آپ نے حضرت فاطمہ کو ان غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو آپ کے پاس اُس وقت بغرض تقسیم آئیں کوئی نہ دی۔اس جگہ یہ بھی یا د رکھنا چاہیے کہ جن اموال میں آپ کا اور آپ کے رشتہ داروں کا خدا تعالیٰ نے حصہ مقرر فرمایا ہے اُن سے آپ خرچ فرما لیتے تھے اور اپنے متعلقین کو بھی دیتے تھے۔ہاں جب تک کوئی چیز آپ کے حصہ میں نہ آئے اُسے قطعاً خرچ نہ فرماتے اور اپنے عزیز سے عزیز رشتہ داروں کو بھی نہ دیتے۔کیا دنیا کسی بادشاہ کی مثال پیش کر سکتی ہے جو بیت المال کا ایسا محافظ ہو؟ اگر کوئی نظیر مل سکتی ہے تو صرف اسی پاک وجود کے خدام میں سے۔ورنہ دوسرے مذاہب اس کی نظیر نہیں پیش کر سکتے۔مذکورہ بالا واقعات سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہایت محتاط تھے اور ہر معاملہ میں کمال احتیاط سے کام کرتے تھے۔خصوصاً اموال کے معاملہ میں آپ نہایت احتیاط فرماتے کہ کسی کا حق نہ مارا جائے اور عارضی طور پر بھی لوگوں کی حق رسی میں دیر کرنا پسند نہ فرماتے بلکہ فوراً غربا حقوق دلوا دیتے تھے۔اب میں اسی امر کی شہادت کے لیے ایک اور واقعہ بیان کرتا