سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 184
سيرة النبي علي 184 جلد 1 فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً وَأَسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوى وَصَلَّى فِيهِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَسَارَ يَمْشِي مَعَهُ النَّاسُ حَتَّى بَرَكَتْ عِندَ مَسْجِدِ الرَّسُوْلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُصَلَّى فِيْهِ يَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ وَكَانَ مِرْبَدًا لِلتَّمْرِ لِسُهَيْلِ وَسَهْلٍ غُلَامَيْنِ يَتِيْمَيْنِ فِي حَجْرٍ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ بَرَكَتُ بِهِ رَاحِلَتُهُ هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ الْمَنْزِلُ ثُمَّ دَعَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلَامَيْنِ فَسَاوَمَهُمَا بالْمِرْبَدِ لِيَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا فَقَالَا لَا بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَأَبَى رَسُوْلُ اللهِ أَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُمَا هِبَةً حَتَّى ابْتَاعَهُ مِنْهُمَا ثُمَّ بَنَاهُ مَسْجِدًا 72۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف میں کچھ دن ٹھہرے۔دس دن سے کچھ اوپر اس مسجد کی بنیاد رکھی جس کی نسبت قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی اور اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔پھر آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور آپ کے ساتھ لوگ پا پیادہ چلنے لگے۔آپ کی اونٹنی چلتی گئی یہاں تک کہ وہ مدینہ کے اس مقام پر پہنچ کر بیٹھ گئی جہاں بعد میں مسجد نبوی تیار کی گئی اور اُس وقت وہاں مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے۔اس مقام پر کھجوریں سکھائی جاتی تھیں اور وہ دو یتیم لڑکوں کا تھا جن کا نام سہیل اور سہل تھا اور جو اسعد بن زرارہ کی ولایت میں پلتے تھے۔جب یہاں آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی تو آپ نے فرمایا کہ انشاء اللہ صلى الشر یہاں ہی ٹھہریں گے۔پھر رسول کریم علیہ نے ان دونوں لڑکوں کو بلوایا اور ان سے چاہا کہ اس جگہ کی قیمت طے کر کے انہیں قیمت دے دیں تا کہ وہاں مسجد بنائیں۔اور دونوں لڑکوں نے جواب میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم قیمت نہیں لیتے بلکہ آپ کو ہبہ کرتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ نے ہبہ لینے سے انکار کیا اور آخر قیمت دے کر اُس جگہ کو خرید لیا۔صلى الله