سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 175
سيرة النبي علي 175 جلد 1 جولوگ جنگ کی تاریخ سے واقف و آگاہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ دشمن کا سب سے زیادہ زور افسروں اور جرنیلوں کو نقصان پہنچانے پر خرچ ہوتا ہے اور سب سے زیادہ اسی بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ سردار لشکر اور اس کے سٹاف کو قتل و ہلاک کر دیا جائے اور یہ اصل ایسی ہے کہ پرانے زمانہ سے اس پر عمل ہوتا چلا آیا ہے بلکہ پرانے زمانہ میں تو جنگ کا دارو مدار ہی اس پر تھا کہ افسر کو قتل یا قید کر لیا جائے اور اس کی زیادہ تر وجہ یہ تھی کہ پچھلے زمانہ میں خود بادشاہ میدان جنگ میں آتے تھے اور آپ ہی فوج کی کمان کرتے تھے اس لیے ان کا قتل یا قید ہو جانا بالکل شکست کے مترادف ہوتا تھا اور بادشاہ کے ہاتھ سے جاتے رہنے پر فوج بے دل ہو جاتی تھی اور اس کے قدم اکھر جاتے تھے۔اور اس کی مثال ایسی ہی ہو جاتی تھی جیسے بے سر کا جسم۔کیونکہ جس کی خاطر لڑتے تھے وہی نہ رہا تو لڑائی سے کیا فائدہ۔پس بادشاہ یا سردار کا قتل یا قید کر لینا بڑی سے بڑی شکستوں سے زیادہ مفید اور نتائج قطعیہ پر منتج تھا اس لیے جس قدر خطرہ با دشاہ کو ہوتا تھا اتنا اور کسی انسان کو نہ ہوتا۔اس بات کو جو شخص اچھی طرح سمجھ لے اُسے ذیل کا واقعہ محو حیرت بنا دینے کے لیے کافی ہے عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ لَهُ رَجُلٌ أَفَرَرْتُم عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَكِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرٌ إِنَّ هَوَازِنَ كَانُوْا قَوْمًا رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا لَقِيْنَاهُمُ حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ فَانْهَزَمُوْا فَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُوْنَ عَلَى الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبَلُوْنَا بِالسِّهَامِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفِرٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ وَإِنَّهُ لَعَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ 69 فَأَمَّا براء بن عازب سے روایت ہے کہ آپ سے کسی نے کہا کہ کیا تم لوگ جنگ حنین کے دن رسول کریم علیہ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے؟ آپ نے جواب میں کہا کہ