سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 174

سيرة النبي علي 174 جلد 1 اپنی تختی میں مشہور تھا یہ بھی آپ کی خاص دلیری پر دلالت کرتا ہے۔تیسرا امر جو اس واقعہ کو عام جرات کے کارناموں سے ممتاز کرتا ہے وہ آپ کی حیثیت ہے۔اگر کوئی معمولی سپاہی ایسا کام کرے تو وہ بھی تعریف کے قابل تو ہوگا مگر ایسا نہیں ہو سکتا جیسا کہ افسرو بادشاہ کا فعل۔کیونکہ اس سپاہی کو وہ خطرات نہیں جو بادشاہ کو ہیں۔اول تو سپاہی کو مارنے یا گرفتار کرنے کی ایسی کوشش نہیں کی جاتی جتنی بادشاہ یا امیر کے گرفتار کرنے یا مارنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ اس کے مارنے یا قید کر لینے سے فیصلہ ہی ہو جاتا ہے۔دوسرے سپاہی اگر مارا جائے تو چنداں نقصان نہیں بادشاہ کی موت ملک کی تباہی کا باعث ہوتی ہے۔پس باوجود ایک بادشاہ کی حیثیت رکھنے کے آپ کا اُس وقت دشمن کی تلاش میں جانا ایک ایسا ممتاز فعل ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی۔صلى الله غزوہ حنین رسول کریم ہی دنیا کے لیے ایک کامل نمونہ ہو سکتے ہیں کیونکہ آپ ہر ایک امر میں دوسرے انسانوں سے افضل ہیں اور ہر ایک نیکی میں دوسروں کے لیے رہنما ہیں۔ہر ایک پاک صفت آپ میں پائی جاتی ہے اور آپ کا کمال دیکھ کر آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اور آپ کے نور سے دل منور ہو جاتے ہیں۔علماء میں آپ سر بر آوردہ ہیں۔متقیوں میں آپ افضل ہیں۔انبیاء میں آپ سردار ہیں۔ملک داری میں آپ کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔جرأت میں آپ فردِ وحید ہیں۔غرض کہ ہر ایک امر میں آپ خاتم ہیں اور آپ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔میں نے پیچھے آپ کی جرات کا ایک واقعہ بیان کیا تھا کہ کس طرح آپ سے پ سب صحابہ سے پہلے خطرہ کے معلوم کرنے اور دشمن کی خبر لینے کے لیے تن تنہا چلے گئے۔اب میں ایک اور واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے پڑھنے والے کو خوب اچھی طرح سے معلوم ہو جائے گا کہ جو کرشمے بہادری اور جرات کے آپ نے دکھلائے وہ اور کوئی انسان نہیں دکھا سکتا۔