سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 173
سيرة النبي علي 173 جلد 1 میں نہایت بزدل اور کمزور ثابت ہوئے تھے جب کسی ایسی مصیبت میں پھنس گئے کہ اس سے نکلنا ان کی عقل میں محالات سے تھا تو انہوں نے اپنے دشمنوں کا ایسی سختی سے مقابلہ کیا کہ ان پر غالب آگئے اور جیت گئے اور ایسی جرات دکھائی کہ دوسرے مواقع میں بڑے بڑے دلیروں سے بھی نہ ظاہر ہوتی تھی۔پس ایک جرات وہ ہوتی ہے جو انقطاع اسباب کے وقت ظاہر ہوتی ہے اور بزدل کو بہادر اور ضعیف کو توانا اور ڈرپوک کو دلیر بنا دیتی ہے مگر یہ کوئی اعلیٰ درجہ کی صفت نہیں کیونکہ اس میں چھوٹے بڑے، ادنی اور اعلیٰ سب شریک ہیں۔قابل تعریف جرات وہ ہے جو ایسے اوقات میں ظاہر ہو کہ اسباب کا انقطاع نہ ہوا ہو۔بہت کچھ امیدیں ہوں۔بھاگنے اور بچنے کے راستے کھلے ہوں یعنی انسان اپنی مرضی سے جان بوجھ کر کسی خطرہ کی جگہ میں چلا جائے نہ یہ کہ اتفاقاً کوئی میبت سر پر آپڑی تو اس پر صبر کر کے بیٹھ رہے۔صلى الله اب دیکھنا چاہیے کہ رسول کریم ﷺ سے جو اس وقت جرات کا اظہار ہوا ہے تو یہ جرات دوسری قسم کی ہے۔اگر آپ اتفاقا کہیں جنگل میں دشمن کے نرغہ میں آ جاتے اور اس وقت جرات سے اس کا مقابلہ کرتے تو وہ اور بات ہوتی۔اور یہ اور بات تھی کہ آپ رات کے وقت تن تنہا بغیر کسی محافظ دستہ کے دشمن کی خبر لینے کو نکل کھڑے ہوئے۔اگر آپ نہ جاتے تو آپ مجبور نہ تھے۔ایسے وقت میں باہر نکلنا افسروں کا کام نہیں ہوتا۔صحابہ آپ خبر لاتے۔اور اگر جانا ہی تھا تو آپ دوسروں کا انتظار کر سکتے تھے مگر وہ قوی دل جس کے مقابلہ میں شیر کا دل بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا اس بات کی کیا پرواہ کرتا تھا۔شور کے سنتے ہی گھوڑے پر سوار ہو کر خبر لانے کو چل دیئے اور ذرا بھی کسی قسم کا تر و یا فکر نہیں کیا۔دوسرا امر جو اس واقعہ کو ممتاز کر دیتا ہے یہ ہے کہ آپ نے ایسے وقت میں ایسا گھوڑا لیا جس پر سواری کے آپ عادی نہ تھے حالانکہ ہر ایک گھوڑے پر سوار ہونا ہر ایک آدمی کا کام نہیں ہوتا۔ایسے خطرہ کے وقت ایک ایسے تیز گھوڑے کو لے کر چلے جانا جو