سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 172
سيرة النبي علي 172 جلد 1 یعنی لہریں مار کر چلتا ہے 68۔اس واقعہ سے ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ آپ کیسے دلیر وجری تھے کہ شور سنتے ہی فوراً گھوڑے پر سوار ہو کر دشمن کی خبر لینے کو چلے گئے اور اپنے ساتھ کوئی فوج نہ لی۔لیکن جب اس واقعہ پر نظر غائر ڈالی جائے تو چند ایسی خصوصیات معلوم ہوتی ہیں کہ جن کی وجہ سے اس واقعہ کو معمولی جرات و دلیری کا کام نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ واقعہ خاص طور پر ممتاز معلوم ہوتا ہے۔اول امر جو قابل لحاظ ہے یہ ہے کہ جرات و دلیری دو قسم کی ہوتی ہے ایک تو وہ جو بعض اوقات بزدل سے بزدل انسان بھی دکھا دیتا ہے اور اس کا اظہار کمال مایوسی یا انقطاع اسباب کے وقت ہوتا ہے اور ایک وہ جو سوائے دلیر اور قوی دل کے اور کوئی نہیں دکھا سکتا۔پہلی قسم کی دلیری ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے ایسے جانوروں سے بھی ظاہر ہو جاتی ہے جو جرات کی وجہ سے مشہور نہیں ہیں۔مثلاً مرغی ان جانوروں میں سے نہیں ہے کہ جو جرات کی صفت سے متصف ہیں بلکہ نہایت ڈرپوک جانور ہے مگر بعض اوقات جب بلی یا چیل اس کے بچوں پر حملہ کرے تو یہ اپنی چونچ سے اس کا مقابلہ کرتی ہے۔اور بعض اوقات تو ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ چیل مرغی کا بچہ اٹھا کر لے گئی تو وہ اس کے پیچھے اس زور سے گودی کہ دو دو گز تک اس کا مقابلہ کیا۔حالانکہ مرغی لڑنے والے جانوروں میں سے نہیں ہے۔مرغی تو خیر پھر بھی بڑا جانور ہے چڑیا تک اپنے سے کئی کئی گنے جانوروں کے مقابلہ کے لیے تیار ہو جاتی ہے مگر یہ اُسی وقت ہوتا ہے جب وہ دیکھ لے کہ اب کوئی مفر نہیں اور میری یا میرے بچوں کی خیر نہیں۔جب جانوروں میں اس قدر عقل ہے کہ وہ جب مصیبت اور بلا میں گھر جاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ اب سوائے موت کے اور کوئی صورت نہیں تو وہ لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتے ہیں اور حتی الوسع دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں تو انسان جو اشرف المخلوقات ہے وہ اس صفت سے کب محروم رہ سکتا ہے۔چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ بعض انسان جو معمولی اوقات