سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 171
سيرة النبي علي 171 جلد 1 بغیر خوف کے لوگوں کو اپنے دین کی باتیں سنانا اور پھر ایسے دین کی جو لوگوں کی نظر میں نہایت حقیر اور مکروہ تھا کوئی ایسا کام نہیں جس کے معلوم ہونے پر آپ کے کمالات کا نقشہ آنکھوں تلے نہ کھینچ جاتا ہو۔اس تیرہ سال کے عرصہ میں کیسے کیسے دشمنوں کا آپ کو مقابلہ کرنا پڑا۔انواع و اقسام کے عذابوں سے انہوں نے آپ کے قدم صدق کو ڈگمگانا چاہا لیکن آپ نے وہ بہادری کا نمونہ دکھایا کہ ہزار ہا دشمنوں کے مقابلہ میں تن تنہا سینہ سپر رہے اور اپنے دشمنوں کے سامنے اپنی آنکھ نیچی نہ کی اور جو پیغام خدا کی طرف سے لے کر آئے تھے اسے کھلے الفاظ میں بغیر کسی اخفاء و اسرار کے لوگوں تک پہنچاتے رہے۔غرض کہ آپ کی زندگی تمام کی تمام جرات و دلیری کا ایک بے مثل نمونہ ہے مگر جگہ کی قلت کی وجہ سے میں ایک دو واقعات سے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لَنَا يُقَالُ لَهُ مَنْدُوْبٌ فَقَالَ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَع وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا 67 مدینہ میں کچھ گھبراہٹ تھی پس نبی کریم عمے نے ہمارا گھوڑا مستعار لیا جس کا نام مندوب تھا اور فرمایا کہ ہم نے کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں دیکھی اور ہم نے تو اس گھوڑے کو سمندر پایا ہے یعنی نہایت تیز وتند۔حضرت انسؓ نے ایک حدیث میں اس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ایک دفعہ مدینہ میں کسی غنیم کے حملہ آور ہونے کی خبر تھی اور مسلمانوں کو ہر وقت اس کے حملہ آور ہونے کا انتظار تھا۔ایک رات اچانک شور ہوا اور دور کچھ آوازیں سنائی دیں۔صحابہ فوراً جمع ہونے شروع ہوئے اور ارادہ کیا کہ جمع ہو کر چلیں اور دیکھیں کہ کیا غنیم حملہ آور ہونے کے لیے آ رہا ہے؟ وہ تو ادھر جمع ہوتے اور تیار ہوتے رہے اور اُدھر رسول کریم ﷺ بغیر کسی کو اطلاع دیئے ایک صحابی کا گھوڑا لے کر سوار ہو کر جدھر سے آوازیں آ رہی تھیں اُدھر دوڑے اور جب لوگ تیار ہو کر چلے تو آپ انہیں مل گئے اور فرمایا کہ گھبراہٹ کی تو کوئی وجہ نہیں شور معمولی تھا۔اور اس گھوڑے کی نسبت فرمایا کہ بڑا تیز گھوڑا ہے اور سمندر کی طرح ہے