سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 170

سيرة النبي علي 170 جلد 1 میدانِ جنگ میں بہادر سپاہی کا ہوتا ہے جو باوجود جرات اور بہادری کے بعض اوقات وقار کھو بیٹھتا ہے اور چھچھورا پن اور گھبراہٹ کا اظہار کر بیٹھتا ہے مگر وہ نیکوں کا نیک، بہادروں کا بہادر ان سب عیوب سے پاک تھا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ طہارت النفس۔جرات انسان کی اعلیٰ درجہ کی خصال میں سے ایک جرات بھی ہے۔جرات کے بغیر انسان بہت سے نیک کاموں سے محروم رہ جاتا ہے۔جرات کے بغیر انسان دنیا میں ترقی نہیں کر سکتا۔جرات کے بغیر انسان اپنے ہم عصروں کی نظروں میں ذلیل وسبک رہتا ہے۔غرض کہ جرات ، بہادری، دلیری اعلیٰ درجہ کی صفات میں سے ہیں اور جس انسان میں یہ خصلتیں ہوں وہ دوسروں کی نظر میں ذلیل نہیں ہوسکتا۔جب کہ آنحضرت معہ جامع کمالات انسانی تھے اور ہر ایک بات میں جو انسان کی زندگی کو بلند اور اعلیٰ کرنے والی ہو دوسرے کے لیے نمونہ اور اسوہ حسنہ تھے۔اور جو عمل یا قول، خوبی یا نیکی سے تعبیر کیا جا سکے اس کے آپ معلم تھے۔اور کل پاک جذبات کو ابھارنے کے لیے ان کا وجود خضر راہ تھا تو ضروری تھا کہ آپ اس صفت میں بھی خاتم الانبیاء والاولیاء بلکہ خاتم الناس ہوں اور کوئی انسان اس حسن میں آپ پر فائق نہ ہو سکے۔چنانچہ آپ کی زندگی پر غور کرنے والے معلوم کر سکتے ہیں کہ آپ نے اپنی عمر میں بہادری اور جرات کے وہ اعلیٰ درجہ کے نمونے دکھائے ہیں کہ دنیا میں ان کی نظیر نہیں مل سکتی۔بلکہ تاریخیں بھی ان کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہیں لیکن چونکہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ موجودہ صورت میں میں صرف وہ واقعات جو بخاری میں درج ہیں پیش کروں گا اس لیے اس جگہ صرف ایک دو واقعات پر کفایت کرتا ہوں۔دراصل اگر غور کیا جائے تو آنحضرت ﷺ کی ملکہ کی زندگی ہی بہادری کا ایک ایسا اعلیٰ نمونہ ہے کہ اسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔تیرہ سال تک ایک ایسے مقام پر رہنا کہ جہاں سوائے چند انفاس کے اور سب لوگ دشمن اور خون کے پیاسے ہیں اور