سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 169
سيرة النبي علي 169 جلد 1 صلى الله ہے کہ جب رسول کریم علیہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے تو مجھے اطلاع ملی کہ آپ کے لیے اور حضرت ابوبکرؓ کے لیے مکہ والوں نے انعام مقرر کیا ہے جو ایسے شخص کو دیا جائے گا جو آپ کو قتل کر دے یا قید کر لائے۔اس پر میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگا اور چاہا کہ جس طرح ہو آپ کو گرفتار کر لوں تا اس انعام سے متمتع ہو کر اپنی قوم میں مالدار رئیس بن جاؤں۔جب میں آپ کے قریب پہنچا میرے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں زمین پر گر پڑا۔اس پر میں نے اٹھ کر تیروں سے فال نکالنی چاہی کہ آیا یہ کام اچھا ہے یا برا ، کروں یا نہ کروں؟ اور تیروں میں سے وہ جواب نکلا جسے میں نا پسند کرتا تھا یعنی مجھے آپ کا تعاقب نہیں کرنا چاہیے۔مگر پھر بھی میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور آپ کے پیچھے بھاگا اور اس قدر نزدیک ہو گیا کہ آپ کی قراءت کی آواز آنے لگی اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بالکل کسی طرف نہیں دیکھتے تھے مگر حضرت ابو بکر بار بار ادھر اُدھر دیکھتے جاتے تھے۔۔صلى الله اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ میں صفت وقار نہایت اعلیٰ درجہ پر تھی اور آپ خطر ناک سے خطر ناک اوقات میں بھی اپنے نفس کی بڑائی کو نہ چھوڑتے تھے۔اور خواہ آپ کو گھر میں بیٹھے ہوئے اپنے شاگردوں سے معاملہ کرنا پڑے جو دین کی جدت کی وجہ سے بار بار سوال کرنے پر مجبور تھے اور خواہ میدانِ جنگ میں دشمن کے ملک میں خطرناک دشمنوں کے مقابلہ میں آنا پڑے ہر دوصورتوں میں آپ اپنے وقار کو ہاتھ سے نہ دیتے اور جس وقت صابر سے صابر اور دلیر سے دلیر انسان چڑ چڑا ہٹ اور گھبراہٹ کا اظہار کرے اُس وقت بھی آپ وقار پر قائم رہتے۔اور تعلیم اور جنگ دو ہی موقعے ہوتے ہیں جہاں وقار کا امتحان ہوتا ہے اور جاننے والے جانتے ہیں کہ اسی وجہ سے استادوں کو اپنے اخلاق کے درست کرنے کی کیسی ضرورت رہتی ہے۔اور جو استاد اس بات سے غافل ہو جائے اور اپنی ذمہ داری کو نہ سمجھے بہت جلد طلباء کے اخلاق کو بگاڑ دیتے ہیں۔یہی حال