سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 168

سيرة النبي علي 168 جلد 1 بادشاہ ہونے کے طبیعت میں ایسا وقار ہے کہ ہر ایک چھوٹا بڑا ، جو دل میں آئے آپ سے پوچھتا ہے اور جس قدر چاہے سوال کرتا ہے لیکن آپ اس پر بالکل ناراض نہیں ہوتے بلکہ محبت اور پیار سے جواب دیتے ہیں۔اور اس محبت کا ایسا اثر ہوتا ہے کہ وہ اپنے دلوں میں یقین کر لیتے ہیں کہ ہم جس قدر بھی سوال کرتے جائیں آپ ان سے اکتائیں گے نہیں۔کیونکہ جو حدیث میں اور پر لکھ آیا ہوں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف اس موقع پر آپ اعتراضات سے نہ گھبرائے بلکہ آپ کی یہ عادت تھی کہ آپ دین کے متعلق سوالات سے نہ گھبراتے تھے کیونکہ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جتنے سوال آپ سے کیے آپ نے ان کا جواب دیا۔اور پھر فرماتے ہیں کہ لَوِ اسْتَرَدْتُهُ لَزَادَنِی۔اگر میں اور سوال کرتا تو آپ پھر بھی جواب دیتے۔اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ کو یقین تھا کہ آپ جس قد رسوالات صلى الله بھی کرتے جائیں آنحضرت ﷺ اس پر ناراض نہ ہوں گے بلکہ ان کا جواب دیتے جائیں گے اور یہ نہیں ہو سکتا تھا جب تک رسول کریم ﷺ کی عام عادت یہ نہ ہو کہ آپ ہر قسم کے سوالات کا جواب دیتے جائیں۔دیگر احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صحابہ کے سوالات پر خفا نہ ہوتے تھے بلکہ بڑی خندہ پیشانی سے ان کے جواب دیتے تھے اور یہ آپ کے وقار کے اعلیٰ درجہ پر شاہد ہے کیونکہ معمولی طبیعت کا آدمی بار بار سوال پر گھبرا جاتا ہے مگر آپ باوجود ایک ملک کے بادشاہ ہونے کے رحمت و شفقت کا ایسا اعلیٰ نمونہ دکھاتے رہے جو عام انسان تو کجا دیگر انبیاء بھی نہ دکھا سکے۔اس حدیث کے علاوہ ایک اور حدیث بھی ہے جس سے آپ کے وقار کا علم ہوسکتا ہے۔اور گو یہ حدیث میں پہلے بیان کر چکا ہوں کیونکہ اس سے آپ کے یقین اور ایمان پر بھی روشنی پڑتی ہے لیکن چونکہ اس حدیث سے آپ کے وقار کا حال بھی کھلتا ہے اس لیے اس جگہ بھی بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔سراقہ بن جعشم کہتا