سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 149
سيرة النبي علي 149 جلد 1 شرک سے تھی۔عمر بھر آپ اس مرض کے مٹانے میں لگے رہے حتی کہ آپ نے اپنی وفات سے پہلے وہ خوشی دیکھی جو اور کسی نبی کو دیکھنی نصیب نہ ہوئی کہ آپ کی سب قوم ایک خدا کو ماننے والی ہو گئی۔مگر پھر بھی وفات کے وقت جو خیال آپ کو سب سے زیادہ تھا وہ یہی تھا کہ کہیں میرے بعد میری قوم مجھے خدا تعالیٰ کا شریک نہ بنالے اور جس طرح پہلی امتوں نے اپنے انبیاء کو صفات الوہیت سے متصف کیا تھا یہ بھی مجھ سے ویسا ہی سلوک نہ کریں۔اس خیال نے آپ پر ایسا اثر کیا کہ آپ نے اپنی مرض الموت میں یہود و نصاری پر لعنت کی کہ انہوں نے اپنے احبار کی قبور کو سجدہ گاہ بنا لیا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيْهِ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا قَالَتْ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَابُرِزَ قبرة 57 آنحضرت ﷺ نے اُس مرض میں جس میں وفات پائی فرمایا اللہ تعالیٰ یہود اور نصاری پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو مساجد بنالیا ہے۔اور حضرت عائشہ نے یہ بھی زائد کیا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو صحابہ آپ کی قبر کو بند نہ کرتے بلکہ ظاہر کرتے۔اس حدیث سے پتہ لگ سکتا ہے کہ آپ کو شرک سے کیسی نفرت تھی۔وفات کے وقت سب سے بڑا خیال آپ کو یہ تھا کہ میں عمر بھر جو ایک خدا کی تعلیم دیتا رہا ہوں لوگ اسے بھول نہ جائیں اور میرے بعد پھر کہیں شرک میں مبتلا نہ ہو جائیں۔اور اگر پہلے معبودوں کو چھوڑا ہے تو اب مجھے ہی معبود نہ بنا بیٹھیں اور آپ نے اس نقص کے دور کرنے کے لیے ایسے سخت الفاظ استعمال فرمائے جن سے صحابہ کرام ایسے متاثر ہوئے کہ انہوں نے خوف کے مارے آپ کی قبر کو بھی ظاہر کرنا پسند نہ کیا تا آپ کے حکم کے خلاف نہ ہو جائے۔چنانچہ اب تک وہ قبر مبارک ایک بند مکان میں ہے جس تک جانے کی لوگوں کو اجازت نہیں۔طہارت نفس آنحضرت ﷺ کی پاک سیرت پر قلم اٹھانا کوئی آسان کام نہیں اسی لیے میں نے ابتدا میں ان مشکلات کو بیان کر کے بتایا