سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 148

سيرة النبي علي 148 جلد 1 تو آگ کے آگے ناصیہ فرسائی کرتے ہی تھے یہود جو تورات کے پڑھنے والے اور حضرت موسی کے ماننے والے تھے وہ بھی عزیز ابن اللہ پکار رہے تھے اور اپنے احبار کو صفات الوہیت سے متصف یقین کرتے تھے۔اور ان سے بھی بڑھ کر نصاری تھے جو سب سے قریب تھے۔حضرت مسیح کی امت ہو کر اس قدر بڑھ گئے تھے کہ خود مسیح کو جو اللہ تعالیٰ کی پرستش قائم کرنے آئے تھے قابل پرستش سمجھنے لگے تھے۔ہندوستان اور چین کی تو کچھ پوچھو ہی نہیں گھر گھر میں بت تھے اور شہر شہر میں مندر تھے۔پھر ایسی شورش کے زمانہ میں آپ کا توحید باری کے ثابت کرنے کے لیے کھڑا ہو جانا اور تمام قوموں کو پکار پکار کر سنانا کہ تم جس قدر معبود میرے خدا کے سوا پیش کرتے ہو سب جھوٹے اور بے ثبوت ہیں ایک ایسا کام تھا جسے دیکھ کر عقل حیران ہوتی ہے۔اور جس قدر آپ کی اس کوشش و ہمت پر غور کیا جائے معلوم ہوتا ہے کہ آپ شرک سے ایسے بیزار تھے کہ ایک ساعت کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور کے سامنے اپنا سر جھکائے۔خدا تعالیٰ کی محبت میں ایسے سرشار ہوئے کہ دنیا بھر کے مذاہب اور قوموں کو اپنا دشمن بنا لیا اور یکدم سب سے اپنا قطع تعلق کرلیا اور صرف اس سے صلح رکھی جس نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کیا۔اُس وقت جو معبودِ باطلہ تھے اُن کے مٹانے اور اڑانے کے علاوہ آپ نے اپنی تعلیم میں اس بات کا التزام رکھا کہ مسلمانوں کو پوری طرح سے خبر دار کیا جائے کہ آئندہ بھی کسی وجہ سے مرض شرک میں مبتلا نہ ہو جاویں۔اسلام کیا ہے؟ سب سے پہلے اس کا اقرار کرنا کہ لَا إِلهُ إِلَّا اللهُ مسلمانوں کو دن میں پندرہ دفعہ بلند مکان پر سے یا منارہ پر سے یہ پیغام اب تک پہنچایا جاتا ہے کہ اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله اور لَا إِلهُ إِلَّا اللهُ۔پھر تمام عبادات میں خدا تعالیٰ کی وحدت کا اقرار کرایا جاتا ہے۔مسلمان تو مسلمان غیر مذاہب کے پیرو بھی اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ جس قدر اسلام شرک کو مٹاتا ہے اتنا اور کوئی مذہب اس کا استیصال نہیں کرتا۔اور یہ کیوں ہے؟ اُسی نفرت کی وجہ سے جو آنحضرت تم کو