سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 150

سيرة النبي علي 150 جلد 1 تھا کہ سیرت تین طرح لکھی جا سکتی ہے۔تو اریخ سے، احادیث سے، قرآن کریم سے۔اور میں نے بتایا تھا کہ سر دست میں احادیث سے اور پھر احادیث میں سے بھی جو سیرت بخاری سے معلوم ہوتی ہے وہ اس جگہ درج کروں گا۔میں نے سیرت کے عام ابواب پر بحث کرنے کے بعد لکھا تھا کہ سیرت انسانی کے تین حصے ہو سکتے ہیں۔ایک وہ جو خدا تعالیٰ سے تعلقات کے متعلق ہو جس کا نام میں نے اخلاص باللہ رکھا تھا اور دوسرا جو خود اپنے نفس کے متعلق ہو اس کا نام طہارت نفس مناسب معلوم ہوتا ہے اور چونکہ اخلاص باللہ کا حصہ میں ختم کر چکا ہوں اس لیے اب دوسرے حصہ کو شروع کیا جاتا ہے جو طہارت نفس کے ہیڈنگ کے ماتحت ہوگا۔بدی سے نفرت طہارتِ نفس کے باب میں سب سے پہلے میں اس بات کے متعلق شہادت بیان کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کو بدی سے سخت نفرت تھی۔اگر چہ بظاہر یہ بات کوئی عجیب نہیں معلوم ہوتی اور سوال اٹھتا ہے کہ آپ کو بدی سے کیوں نفرت نہ ہوتی جب کہ ایک عظیم الشان قوم کے آپ رہبر اور ہادی تھے اور ہر وقت اپنے متبعین کو بدیوں سے روکتے رہتے تھے اور جس کا کام رات دن یہی ہو کہ وہ لوگوں کو بدیوں سے رو کے اور امر بالمعروف کرے اُسے تو اپنے اعمال میں بہت محتاط رہنا ہی پڑتا ہے ورنہ اُس پر الزام آتا ہے اور لوگ اسے طعنہ دیتے ہیں کہ تم دوسروں کو منع کرتے ہو اور خود اس کام کو کرتے ہو۔لیکن اگر غور کیا جائے تو دنیا میں وعظ کہنے والے تو بہت ملتے ہیں مگر ایسے واعظ جو اپنے نمونہ سے دنیا میں نیکی پھیلائیں بہت کم ہیں۔ایسے واعظ تو اس وقت بھی ہزاروں ہیں جو لوگوں کو پاکیزگی اور انقطاع الی اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔لیکن کیا ایسے لوگوں کی بھی کوئی کثیر جماعت پائی جاتی ہے جو خود عمل کر کے لوگوں کے لیے خضر راہ بنیں؟ إِلَّا مَاشَاءَ اللَّهُ وَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔کسی شاعر نے کہا ہے اور بالکل سچ کہا ہے کہ:۔