سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 135

سيرة النبي علي 135 جلد 1 صلى الله امر کی طرف متوجہ کرنا ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت علی کی تمام عمر کی کوشش یہی تھی کہ جس جس طرح سے ہو سکے لوگوں کی زبان پر خدا کا نام جاری کیا جائے۔خود تو جس طرح آپ ذکر میں مشغول رہتے اس کا حال میں بیان کر چکا ہوں مگر اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہر ایک کی زبان پر یہی لفظ دیکھنا چاہتے تھے۔آپ کی آمد کی اطلاع دینے کے لیے اگر صحابہ نے تالیاں بجائیں تو یہ اُن کا ایک رواج تھا اور ہر ایک ملک میں اطلاع عام کے لیے یا متوجہ کرنے کے لیے لوگ تالیاں بجاتے ہیں۔آج کل بھی جلسوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب کسی لیکچرار کی کوئی بات زیادہ پسند آئے تو اس پر تالیاں پیٹتے ہیں تا کہ لوگوں کو توجہ پیدا ہو کہ یہ حصہ لیکچر خاص توجہ کے قابل ہے۔پس تالیاں بجانا اس کام کے لیے رائج ہے لیکن رسول کریم ﷺ کی یاد الہی سے محبت دیکھو کہ آپ نے دیکھا کہ بعض دفعہ ضرورت تو ہوتی ہے کہ لوگوں کو کسی کام کی طرف متوجہ کیا جائے پھر کیوں نہ اسی ضرورت کے موقع پر بجائے اس بے معنی حرکت کے لوگوں کو اس طرف لگا دیا جائے کہ وہ اپنے خیالات اور جوشوں کے اظہار کے لیے بجائے تالیاں بجانے کے سُبْحَانَ اللهِ کہہ دیا کریں۔کم سے کم ایسے موقع پر ہی خدا کا ذکر ان کی زبان پر جاری ہوگا۔یہ وہ حکمت و فلسفہ ہے جسے دنیا کے کسی رہنما اور ہادی نے نہیں سمجھا اور کوئی مذہب نہیں جو اس حکم کی نظیر پیش کر سکے کہ اس نے بھی بجائے لغویات کے لوگوں کو ایسی تعلیم کی طرف متوجہ کیا ہو کہ جو اُن کے لیے مفید ہو سکے۔تالیاں بجانا بے شک جذبات انسانی کا ترجمان تو ہو سکتا ہے لیکن وہ ایسا ہی ترجمان ہے کہ جیسے ایک گونگے کے خیالات کا ترجمہ اس کے اشارات ہو جاتے ہیں کیونکہ تالیاں بجانے سے صرف اسی قدر معلوم ہو سکتا ہے کہ اُس کے دل میں کوئی جوش ہے اور یہ اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہے یا یہ کہ کسی کو غلطی پر دیکھ کر اسے اس کی غلطی پر متنبہ کرنا چاہتا ہے لیکن اس سے زیادہ اور کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔لیکن رسول کریم ﷺ صرف اسی پر اکتفا نہ