سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 136

سيرة النبي علي 136 جلد 1 کر سکتے تھے۔آپ ایک طرف تو کل لغویات کو مٹانا چاہتے تھے دوسری طرف آپ کے دل میں یہ جوش موجزن رہتا کہ خدا تعالیٰ کے نام کی کثرت ہو اور ہر ایک مجلس اور مقام میں اُسی کا ذکر کیا جائے اس لیے آپ نے بجائے ان بے معنی اشارات کے جن سے گواشارۃ حصول مطلب ہو جاتا تھا ایسے الفاظ مقرر کیے کہ جن سے نہ صرف حصولِ مطلب ہوتا ہے بلکہ انسان کی روحانیت میں ازدیاد کا باعث ہے اور عین موقع کے مناسب ہیں اور پھر خدا تعالیٰ کا ذکر بھی ہو جاتا ہے۔یا د رکھنا چاہیے کہ انسان جب کبھی کسی شے کی طرف توجہ کرتا ہے یا اسے نا پسند کرنے کی وجہ سے یا پسندیدگی کے باعث۔تو ان دونوں صورتوں میں سُبْحَانَ اللَّهِ کے کلمہ کا استعمال نہایت با موقع اور بامحل ہے۔اگر کسی انسان کے کسی فعل کو نا پسند کرتا ہے تو سُبْحَانَ اللہ اس لیے کہتا ہے کہ آپ سے کوئی سہو ہوا ہے۔سہو سے تو صرف خدا کی ہی ذات پاک ہے ورنہ ہر ایک انسان سے سہو ممکن ہے۔اس مفہوم کو سمجھ کر آدمی اپنی غلطی پر متنبہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص کوئی عمدہ کام کرلے تو اس میں بھی سُبحَانَ اللہ کہا جاتا ہے جس کی یہ غرض ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام نقصوں سے پاک ہے اور جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے اسے بھی پاک ہی پیدا کیا ہے۔یہ کام جو کسی سے سرزد ہوا ہے یا یہ قول جو کسی کی زبان پر جاری ہوا ہے اپنی خوبی اور حسن میں خدا تعالیٰ کی پاکیزگی اور طہارت یاد دلاتا ہے جو تمام خوبیوں کا پیدا کرنے والا ہے۔غرض کہ سُبْحَانَ اللہ کا کلمہ اُس ضرورت کو پورا کرتا ہے جس کے لیے توجہ دلائی جاتی ہے اور افسوس اور خوشی دونوں کا اظہار اس سے ایسی عمدگی سے ہوتا ہے جو اور کسی کلمہ سے نہیں ہو سکتا۔پس اس کلمہ کے مقابلہ میں تالیاں بجانا اور سیٹیاں مارنا بالکل لغو اور بے فائدہ ہے اور ان لغو حرکات کے مقابلہ پر ایسا پاک کلمہ رکھ دینا رسول کریم ﷺ کی ہی پاک طبیعت کا کام تھا ورنہ ہزاروں سال سے اس لغو حرکت کو روکنے کی کسی اور کے دل میں تحریک نہیں ہوئی۔ہاں صرف رسول کریم ﷺ ہی ہیں جو الله