سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 134

سيرة النبي علي 134 جلد 1 وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لِيْ رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيْقَ مَنْ رَابَهُ شَيْءٌ فِى صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحُ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ وَإِنَّمَا التَّصْفِيْقُ لِلنِّسَاءِ 49 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمر و بن عوف میں گئے تا کہ ان میں صلح کروائیں پس نماز کا وقت آگیا اور مؤذن حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور کہا کہ کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟ میں اقامت کہوں؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں۔پھر حضرت ابوبکر نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔اتنے میں رسول کریم ﷺ تشریف لے آئے اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔آپ صف چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور پہلی صف میں جا کر کھڑے ہو گئے۔جب آپ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو لوگ تالیاں پیٹنے لگے ( تا حضرت ابوبکر کو معلوم ہو جائے ) لیکن حضرت ابوبکر نماز میں کسی دوسری طرف کچھ توجہ نہ فرماتے۔جب تالیاں پیٹنا صلى الله تطویل پکڑ گیا تو آپ متوجہ ہوئے اور معلوم کیا کہ رسول کریم ﷺ تشریف لائے ہیں۔رسول کریم اللہ نے آپ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔اس پر حضرت ابو بکڑ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور اس عزت افزائی پر خدا تعالیٰ کا شکر یہ ادا کیا اور حمد کی۔پھر آپ پیچھے ہٹ گئے اور صف میں مل گئے اور رسول کریم علی آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔سلام پھیرنے کے بعد فرمایا کہ اے ابوبکر ! جب میں نے حکم دیا تھا تو پھر آپ کو کونسی چیز مانع ہوئی کہ نماز پڑھاتے رہتے۔حضرت ابوبکر نے جواب دیا کہ ابن ابی قحافہ کی کیا حیثیت تھی کہ رسول کریم ﷺ کے آگے کھڑا ہو کر نماز پڑھاتا۔پھر آپ نے (لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ) فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ تم لوگوں نے اس قدر تالیاں پیٹیں۔جسے نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے اسے چاہیے کہ سُبْحَانَ اللهِ کہے کیونکہ جب وہ سُبْحَانَ اللهِ کہے گا تو خود ہی اس کی طرف توجہ ہو گی اور تالیاں پیٹینا تو عورتوں کا کام ہے۔اس حدیث سے اگر چہ اور بہت سے سبق ملتے ہیں لیکن اس جگہ مجھے صرف ایک