سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 133
سيرة النبي علي 133 جلد 1 تکلیف برداشت کر کے تمام شرائط کے ساتھ ذکر الہی کریں اور اپنے پیارے کو یاد کریں۔جب اس تکلیف کی حالت میں آپ کو ذکر الہی سے یہ وابستگی تھی تو صحت کی حالت میں قیاس کیا جا سکتا ہے کہ آپ کس جوش کے ساتھ اپنے پیارے کے ذکر میں مشغول رہتے ہوں گے۔میں پیچھے لکھ چکا ہوں کہ رسول کریم علی کو اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق تھا کہ خدا تعالیٰ کا ذکر آتے ہی آپ کے اندر ایک جوش پیدا ہو جاتا اور یہ کہ آپ کو خدا تعالیٰ سے ایسی محبت تھی کہ تندرستی اور بیماری میں خدا تعالیٰ کا ذکر ہی آپ کی غذا تھا۔اب میں ایک اور واقعہ یہاں درج کرتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ آپ جہاں تک ہو سکتا لوگوں میں خدا تعالیٰ کے ذکر کی عادت پیدا کرتے۔في حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذَهَبَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيْمَ ؟ قَالَ نَعَمُ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ الصَّلَاةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِى الصَّتِ فَصَفَّقَ النَّاسُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِى صَلَاتِهِ فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيْقَ الْتَفَتَ فَرَاى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن امُكُتُ مَكَانَكَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ فَحَمِدَ اللهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذلِكَ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّتِ وَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا كَانَ لابن أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اللهُ عَنْهُ يَدَيْهِ