سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 132
سيرة النبي علي 132 جلد 1 شروع کی اور حضرت ابو بکر نے آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کی اور باقی لوگ حضرت ابوبکر کی نماز کی اتباع کرنے لگے۔الله اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیسی ہی خطرناک بیماری ہو خدا تعالیٰ کی یا د کو نہ بھلاتے۔عام طور پر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ ذرا تکلیف ہوئی اور سب عبادتیں بھول گئیں اور نماز با جماعت اور دوسرے شرائط کی ادائیگی میں تو اکثر کوتا ہی ہو جاتی ہے لیکن آپ کا یہ حال تھا کہ معمولی بیماری تو الگ رہی اس مرض میں کہ جس میں آپ فوت ہو گئے اور جس کی شدت کا یہ حال تھا کہ آپ کو بار بارغش آ جاتے تھے اٹھنے سے قاصر تھے لیکن جب نماز شروع ہو گئی تو آپ برداشت نہ کر سکے کہ خاموش بیٹھ رہیں۔اُسی وقت دو آدمیوں کے کاندھے پر سہارا لے کر باوجود اس کمزوری کے کہ قدم لڑکھڑاتے جاتے تھے نماز با جماعت کے لیے مسجد میں تشریف لے آئے۔بے شک ظاہراً یہ بات معمولی معلوم ہوتی ہے لیکن ذرا رسول کریم ﷺ کی اس حالت کو دیکھو جس میں آپ مبتلا تھے ، پھر اُس ذکر الہی کے شوق کو دیکھو کہ جس کے ماتحت آپ نماز کے لیے دو آدمیوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر تشریف لائے تو معلوم ہوگا کہ یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ آپ کے دل میں ذکر الہی کا جو شوق تھا اس کے اظہار کا ایک آئینہ تھا۔ہر ایک صاحب بصیرت سمجھ سکتا ہے کہ ذکر الہی آپ کی غذا تھی اور اس کے بغیر آپ اپنی زندگی میں کوئی لطف نہ پاتے تھے۔اسی کی طرف آپ نے اشارہ فرمایا ہے کہ جن چیزوں سے مجھے محبت ہے ان میں سے ایک قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَوةِ 48 یعنی نماز میں میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔شریعت کے لحاظ سے آپ کا باجماعت نماز پڑھنا یا مسجد میں آنا کوئی ضروری امر نہ تھا کیونکہ بیماری میں شریعتِ اسلام کسی کو ان شرائط کے پورا کرنے پر مجبور نہیں کرتی لیکن یہ عشق کی شریعت تھی یہ محبت کے احکام تھے بے شک شریعت آپ کو اجازت دیتی تھی کہ آپ گھر میں ہی نماز ادا فرماتے لیکن آپ کو ذکر الہی سے جو محبت تھی وہ مجبور کرتی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو آپ ہر ایک ہر