سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 130

سيرة النبي علي 130 جلد 1 اللہ تعالیٰ کی محبت کا ایک دریا امڈ رہا تھا۔آپ دیکھتے تھے کہ ایک دنیا اس پاک ہستی کے احکام کو توڑ رہی ہے اور اس کے احکام پر عمل کرنے سے محتر ز ہے۔لوگ اپنے نفوس کے احکام کو مانتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے ارشادات کی تعمیل نہیں کرتے۔پھر آپ کو خدا تعالیٰ سے جو محبت تھی اس کے رو سے آپ کب برداشت کر سکتے تھے کہ لوگ اس پیارے رب کو چھوڑ دیں۔ان خیالات نے آپ پر یہ اثر کیا کہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی عظمت کا ذکر کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ دنیاوی بادشاہوں کی اطاعت کے بغیر انسان سکھ نہیں پا سکتا تو پھر اُس قادر مطلق کی نافرمانی پر کب سکھ پا سکتا ہے جو سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔میں جب مذکورہ بالا حدیث کو پڑھتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ آپ کس جوش کے ساتھ خدا کو یاد کرتے ہیں۔بناوٹ سے یہ کلام نہیں نکل سکتا۔اس خالص محبت کا ہی نتیجہ تھا جو آپ خدا سے رکھتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر پر آپ کو اس قدر جوش آ جاتا اور آپ چاہتے کہ کسی طرح لوگ ان نافرمانیوں کو چھوڑ دیں اور خدا تعالیٰ کی اطاعت میں لگ جائیں۔اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو حیرت تھی کہ لوگ کیوں اس طرح دلیری سے ایسے کام کر لیتے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا خوف ہو۔جس کام میں کسی حاکم کی ناراضگی کا خیال ہو لوگ اس کے کرنے سے بچتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا کوئی خوف نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ اس کی نافرمانی سے کچھ نقصان نہ ہو گا لیکن رسول کریم علیہ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہی اصل ناراضگی ہے اور انسان کو چاہیے کہ نہ صرف گناہوں سے بچے بلکہ اُن کاموں سے بھی بچے کہ جن کے کرنے میں شک ہو کہ یہ جائز ہیں یا ناجائز۔کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان کاموں کے کرنے پر ہلاک ہو جائے اور وہ اسے خدا تعالیٰ کے رحم کے استحقاق سے محروم کر دیں۔خدا تعالیٰ کے نام پر یہ جوش اور اس قدرا ظہارِ خوف و محبت ظاہر کرتا ہے