سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 131
سيرة النبي علي 131 جلد 1 کہ آپ کے دل میں محبت الہی اس درجہ تک پہنچی ہوئی تھی کہ ہر ایک انسان کی طاقت ہی نہیں کہ اس کا اندازہ بھی کر سکے۔ذکر الہی کی تڑپ پچھلی مثال سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یاد الہی کے وقت آپ کو کس قدر جوش آتا اور کس قدر محبت سے مجبور ہو کر آپ کے کلام میں خاص شان پیدا ہو جاتی تھی۔اب میں ایک اور واقعہ بتاتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی یاد کا نہایت ہی شوق تھا اور آپ عبادات کے بجالانے میں كَمَا حَقُّه مشغول رہتے تھے۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو بوجہ سخت ضعف کے نماز پڑھانے پر قادر نہ تھے اس لیے آپ نے حضرت ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔جب حضرت ابو بکر نے نماز پڑھانی شروع کی تو آپ نے کچھ آرام محسوس کیا اور نماز کے لیے نکلے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ يُهَادِى بَيْنَ رَجُلَيْنِ كَانِي أَنْظُرُ رِجُلَيْهِ يَخُطَّانِ الْأَرْضَ مِنَ الْوَجَعِ فَأَرَادَ أَبُوْبَكُرٍ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَوْمَا إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ فَقِيْلَ لِلْأَعْمَشِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَبُوْبَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاتِهِ وَالنَّاسُ يُصَلُّوْنَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ 47 کہ حضرت ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دینے کے بعد جب نماز شروع ہو گئی تو آپ نے مرض میں کچھ خفت محسوس کی پس آپ نکلے کہ دو آدمی آپ کو سہارا دے کر لے جا رہے تھے اور اس وقت میری آنکھوں کے سامنے وہ نظارہ ہے کہ شدت درد کی وجہ سے آپ کے قدم زمین سے چھوتے جاتے تھے۔آپ کو دیکھ کر حضرت ابو بکر نے ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ آئیں۔اس ارادہ کو معلوم کر کے رسول کریم علیہ نے ابو بکر کی طرف اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو۔پھر آپ کو وہاں لایا گیا اور آپ حضرت ابو بکر کے پاس بیٹھ گئے۔اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے نماز پڑھنی